( پنجاب پو سٹ ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زرعی اصلاحات کے نتیجے میں پنجاب ایگریکلچر میکانائزیشن کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ گرین ٹریکٹر سکیم کے تحت ہزاروں کسانوں کو سبسڈی پر جدید ٹریکٹر فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ مالی سال میں مزید 20 ہزار گرین ٹریکٹرز دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی شعبے کو مضبوط بنانا اور کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
مزید پڑھیں:
پنجاب میں کسان کارڈ کتنے افراد کو ملا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
صوبے میں پہلی مرتبہ جدید زرعی مشینری کی خریداری کے لیے تین کروڑ روپے تک بلاسود قرضوں کی سکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ اس پروگرام کے تحت کسانوں کو ہائی ٹیک کمبائنڈ ہارویسٹرز سمیت مختلف جدید مشینری فراہم کی جا رہی ہے، جس سے فصلوں کی کٹائی اور دیگر زرعی امور زیادہ مؤثر اور کم لاگت میں انجام دیے جا رہے ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے چاول کے کاشتکاروں کو ہزاروں سپر سیڈر فراہم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے لاکھوں ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ جدید زرعی مشینری کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے نہ صرف پیداواری لاگت کم ہوگی بلکہ فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت چھوٹے کاشتکاروں کو بھی جدید مشینری کرائے پر فراہم کرنے کی سہولت دے رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اس سے فائدہ اٹھا سکیں














