لاہور( پنجاب پوسٹ ) سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ملک میں رواں برس کم قربانی ہوئی ہے مگر پاکستان میں اس سال قربانی کے 75 لاکھ جانوروں کی کھالوں سے 8.7ارب روپے (31 ملین ڈالر) کی معاشی سرگرمی متوقع ہے۔ پاکستان میں ایک دہائی کے دوران قربانی کے جانوروں کی تعداد میں 17 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس سال 28 لاکھ گائے بیلوں، 43 لاکھ بکروں، 5 لاکھ بھیڑوں اور 30 ہزار اونٹوں کی کھالیں حاصل ہونے کا امکان ہے۔
گزشتہ 9 سال میں چمڑے کی صنعت کا رجحان کھالوں کی فراہمی سے منافع بخش تیار مصنوعات کی طرف منتقل ہوا، پاکستانی برآمدات میں چمڑے سے تیار شدہ مصنوعات اور جوتوں کا حجم 694.20 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب کا 6 ہزار ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ تیار، اس بار بجٹ میں نیا کیا ہے؟
معاشی ماہرین کے مطابق حکومت ملک میں چمڑے کی صنعت کو خام مال کی فراہمی سے تیار شدہ مصنوعات کی طرف منتقل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ قربانی کے جانوروں اور ان کی کھالوں کی بڑھتی تعداد ملک میں خریداری کی مضبوط صلاحیت اور معاشی اعتماد کی عکاس ہے۔












