لاہور میں ناموں کی تبدیلی پر بھارتی خفیہ ایجنسی کا پروپیگنڈا، حقائق کیا ہیں؟

لاہور( پنجاب پوسٹ ) لاہور میں مختلف جگہوں اور سڑکوں کے ناموں کی تبدیلی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے ۔ مختلف مقامات کے نئے نام بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں ۔ حیران کن طور پر یہ نام بھارتی خفیہ ایجنسی را سے منسلک انفلوائنسرز اکاونٹ سے جاری کئے گئے ۔ جنہیں بعدازاں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے بھی شئیر کیا ۔


اب سوال یہ ہے کہ یہ معاملہ شروع کہاں سے ہوا؟

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کی ہدایت پر مارچ 2026 میں حکومت پنجاب نے لاہور ہیرٹیج ایریاز ریوائیول (لہر) منصوبے کا آغاز کیا ۔ جس کا مقصد لاہور کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کو فروغ دینا تھا۔


آج سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر لاہور میں سڑکوں کے نام کی بحالی کیلئے اجلاس ہوا ۔ جس میں ڈپٹی کمشنر لاہور ، سابق ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری اور ماہرین نے شرکت کی ۔اجلاس میں 21 سڑکوں کے ناموں کی بحالی پر غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق لاہور کی 21 سڑکوں میں صرف ایک سڑک کی تبدیلی نام کا نوٹیفکیشن ہوا ، نکلسن روڈ کا نام نوابزادہ نصر اللہ خان کے نام پر رکھا گیا ۔لکشمی چوک ، جین مندر ، بیڈن روڈ وغیرہ کے رکارڈ پر پرانے نام ہی ہیں ۔


سابق ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری نے شرکا کو بتایا کہ سڑکوں کے نام تبدیلی یا بحالی پر مزید غور کے بعد فیصلہ ہوگا ، کامران لاشاری کے مطابق سڑک پرانے نام پر رہے یا نیا نام رکھا جائے ، اس پر مزید غور ہوگا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

ایک تبصرہ برائے “لاہور میں ناموں کی تبدیلی پر بھارتی خفیہ ایجنسی کا پروپیگنڈا، حقائق کیا ہیں؟”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے