لاہور ( پنجاب پوسٹ) اسلامی جمعیت طلبہ، پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کے زیر اہتمام گرمیوں کی تعطیلات کے دوران ہاسٹلز کی بندش کے خلاف مال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرے میں طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور یونیورسٹی انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے طلبہ سے پورے سال کی ہاسٹل فیس وصول کی جاتی ہے، مگر گرمیوں کی تعطیلات میں تین ماہ کے لیے ہاسٹلز بند کر دینا طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔
طلبہ نے مؤقف اختیار کیا کہ متعدد طلبہ گرمیوں میں مختلف اداروں میں ملازمت کرتے ہیں تاکہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کر سکیں، جبکہ کئی طلبہ کے فائنل امتحانات یا ریسرچ ورک بھی جاری ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہاسٹلز کی بندش طلبہ کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیتی ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ذمہ داران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے متبادل رہائش کا انتظام ممکن نہیں ہوتا، جس کے باعث وہ ذہنی، مالی اور تعلیمی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ فوری طور پر ہاسٹلز بند کرنے کا فیصلہ واپس لے اور طلبہ کو سال بھر رہائش کی سہولت فراہم کی جائے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر طلبہ کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔













ایک تبصرہ برائے “پنجاب یونیورسٹی میں طلبا و طالبات احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟”
[…] مزید پڑھیں: پنجاب نیویورسٹی میں طلبا و طالبات احتجاج کی… […]