لاہور( سیدہ اسریٰ بتول )بدنام زمانہ ڈرگ اسمگلر انمول عرف پنکی کی پنجاب میں کارستانیاں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔انویسٹی گیشن پولیس نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے ایس پی سی آر او کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی۔کمیٹی لاہور کے تمام تھانوں میں پنکی کا 12 سال کا ریکارڈ چیک کرے گی ۔
اب تک کی تفصیلات کے مطابق لاہور میں انمول عرف پنکی کے خلاف 4 مقدمات سامنے آچکے ہیں۔کوٹ لکھپت، اقبال ٹاؤن،لیاقت آباد اور وحدت کالونی تھانو میں پنکی کے خلاف نامزد مقدمات درج ہیں۔ حیران کن طور پر مقدمات میں نامزد ہونے کے باوجود پنکی کا ایک بھی کیس میں کریمنل ریکارڈ نہیں بنایا گیا۔ کسی ایک مقدمے میں بھی پنکی کاچلان نہیں کیا گیا۔چاروں مقدمات میں انمول عرف پنکی کی گرفتاری التواء میں رکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : کوکین کوئین کی پنجاب منتقلی ،کتنے مقدمات درج ہیں؟ کیا سزا ہوسکتی ہے؟: پنجاب میں پنکی کی طاقت : کوکین کوئین کتنی طاقتور تھی ؟ پنجاب میں کتنے مقدمات ہیں ؟ کارروائی کیوں نہ ہوسکی ؟ سول سوسائٹی نیٹ ورک معاملے میں کیوں کود پڑا ؟ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی ان سوالات کا جواب تلاش کرے گی کہ پنجاب میں پنکی کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا ؟کون سے پولیس افسر انمول عرف پنکی کو بچانے میں ملوث ہیں؟کس افسر نے کتنی رشوت لی؟کمیٹی نے اس پر تحقیقات شروع کر دی ہے ۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ فرائض میں غفلت برتنے والے افسران کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔۔ انمول عرف پنکی کو بچانے میں ملوث افسران کے خلاف کریمنل دفعات کے تحت مقدمے درج کئے جائیں گے۔
کوکین کوئن کیخلاف پنجاب میں مقدمات کا عدالتی ریکارڈ کیا کہتا ہے؟
دوسری جانب ڈرگ سمگلر انمول پنکی اور اسکے ساتھیوں کے خلاف لاہور میں درج تین مقدمات عدالتی ریکارڈ بھی سامنے آگیا ہے ۔جس کے مطابق تھانہ اقبال ٹاون میں 2 کلو منشیات برآمدگی کے مقدمے میں پنکی کے بھائی محمد ناصر کو بری کردیا گیا ،ایڈیشنل سیشن جج محمد نذیر نے 8دسمبر 2020 کو ملزم محمد ناصر کو بری کیا ۔ اسی طرح پنکی اور اسکے بھائی کے خلاف اقبال ٹاون میں 22مئی 2020 کو مقدمہ درج ہوا تھا ۔ 2019 میں تھانہ لیاقت اباد میں 17سو گرام منشیات برآمدگی کے مقدمے میں ملزم محمدطاہر کو سزا ہوائی ،عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج محمد اشفاق نے پنکی کے کےلیے کام کرنے والے ملزم کو 17اکتوبر 2020 کو سزا سنائی ،2024 میں تھانہ وحدت کالونی میں 20 گرام کوکین کے مقدمہ سے ملزمہ صابراں کو بری کیا گیا عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج رانا عمران شفیع نے پنکی کے لیے کام کرنے والی صابراں بی بی کو بری کیا ۔ یعنی تینوں مقدمات میں انمول پنکی کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی
تعلیمی اداروں میں طالبات منشیات کی لت میں مبتلا ہوچکی ہیں: سول سوسائٹی نیٹ ورک
سول سوسائٹی نیٹ ورک پاکستان فار ہیومن رائٹس نے مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف “پنکی” اور ملک بھر میں سرگرم مبینہ منشیات نیٹ ورک کے جوڈیشل انکوائری کی درخواست کر دی ۔ سول سوسائٹی نیٹ ورک پاکستان کے صدر اور ایڈووکیٹ عبداللہ ملک کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ارسال درخواست میں کہا گیا ہے کہ انمول عرف پنکی کا معاملہ محض ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع اور منظم منشیات کا نیٹ ورک کام کر رہا ہے جو سندھ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم ہے، حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر انمول عرف “پنکی” کا معاملہ نمایاں طور پر سامنے آیا،عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، ملک میں منشیات کا مسئلہ نیا نہیں، تاہم موجودہ کیس نے اس سنگین مسئلے کی شدت کو ایک بار پھر آشکار کر دیا ہے، درخواست میں مئوقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ ماضی میں بھی تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر ازخود نوٹس لے چکی ہے، مختلف صوبوں کے انسپکٹر جنرلز پولیس کی جانب سے رپورٹس بھی جمع کروائی گئی تھیں۔ اصل مسئلہ صرف مقدمات کے اندراج تک محدود نہیں بلکہ منشیات کی ترسیل اور سپلائی چین چلانے والے منظم گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونا ہے۔
مزید پڑھیں : ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کا پنجاب سے کیا تعلق ہے ؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں: پنجاب میں پنکی کی طاقت : کوکین کوئین کتنی طاقتور تھی ؟ پنجاب میں کتنے مقدمات ہیں ؟ کارروائی کیوں نہ ہوسکی ؟ سول سوسائٹی نیٹ ورک معاملے میں کیوں کود پڑا ؟درخواست گزار کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں، خصوصاً اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے اطراف میں منشیات کی خرید و فروخت عام ہو چکی ہے، نوجوان نسل، بالخصوص طالبات، تیزی سے اس لعنت کا شکار بن رہی ہیں، اس صورتحال سے نہ صرف خاندان بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہو رہا ہے۔سول سوسائٹی نیٹ ورک نے اپنی درخواست میں تشویش بھی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام افراد کے خلاف تو کارروائیاں کی جاتی ہیں، تاہم بااثر شخصیات، سیاسی روابط رکھنے والے افراد اور طاقتور حلقے اکثر قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں، جس سے عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔
درخواست میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، 14، 25 اور 27 کا حوالہ بھی دیاگیا ہے ۔ درخواست کے متن کے مطابق ہر شہری کو قانون کے مطابق تحفظ، عزت و وقار، مساوات اور امتیازی سلوک سے آزادی حاصل ہے،ہر خاتون کی عزت اور پرائیویسی کا تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے، خواہ اس پر کسی بھی نوعیت کے الزامات کیوں نہ ہوں۔
سول سوسائٹی نیٹ ورک نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ انمول عرف “پنکی” کے معاملے پر فوری جوڈیشل انکوائری کرائی جائے
سول سوسائٹی نیٹ ورک نے استدعا کی ہے کہ انکوائری کسی سینئر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سپرد کی جائے، سندھ اور ملک بھر میں سرگرم منشیات سپلائی نیٹ ورک کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کی نگرانی میں مانیٹرنگ میکنزم قائم کیا جائےتمام ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔عدالت اس حساس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائے تاکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال ہو سکے اور نوجوان نسل کو منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرے سے محفوظ بنایا جا سکے۔
بدنام زمانہ کوکین کوئن کیخلاف لاہور میں درج مقدمات کی تعداد چار ہوگئی ہے۔
منشیات فروش انمول عرف پنکی کےخلاف لاہور میں درج ایک اور مقدمہ سامنے آگیا۔ انمول عرف پنکی کیخلاف سامنے آنے والے درج مقدمات کی تعداد4 ہو گئی، چوتھا مقدمہ 204 میں تھانہ وحدت کالونی میں درج کیاگیاتھا۔پولیس حکام کے مطابق یہ مقدمہ ملزمہ صابراں بی بی کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ملزمہ سے 20 گرام کوکین برآمد ہوئی تھی۔ملزمہ کے مطابق اس نے یہ منشیات کراچی میں انمول سے لی تھی۔
حیران کن طور پر انمول عرف پنکی کو اس مقدمہ میں بھی اشتہاری نہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں : کوکین کوئین کی پنجاب منتقلی ،کتنے مقدمات درج ہیں؟ کیا سزا ہوسکتی ہے؟: پنجاب میں پنکی کی طاقت : کوکین کوئین کتنی طاقتور تھی ؟ پنجاب میں کتنے مقدمات ہیں ؟ کارروائی کیوں نہ ہوسکی ؟ سول سوسائٹی نیٹ ورک معاملے میں کیوں کود پڑا ؟
















ایک تبصرہ برائے “پنجاب میں پنکی کی طاقت : کوکین کوئین کتنی طاقتور تھی ؟ پنجاب میں کتنے مقدمات ہیں ؟ کارروائی کیوں نہ ہوسکی ؟ سول سوسائٹی نیٹ ورک معاملے میں کیوں کود پڑا ؟”
[…] […]