لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی چیک "سیکیورٹی چیک” کے طور پر دیا گیا ہو تو محض چیک پیش کر دینے سے رقم کی وصولی ممکن نہیں۔ چیک کی رقم حاصل کرنے کے لیے مدعی کو پہلے عدالت میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مدعا علیہ کے ذمے رقم واقعی واجب الادا ہے۔
کیس کا پس منظر
جسٹس عاصم حفیظ نے محمد احتشام کی درخواست پر چھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر کی حیثیت حاصل ہوگی۔ عدالت نے نظامی فیڈز کی اپیل مسترد کر دی، جس کے نتیجے میں فرم کو چیک کی رقم نہ مل سکی۔
چیک مشروط قرار
عدالت نے نوٹ کیا کہ چیک کی پشت پر "سیکیورٹی چیک” تحریر تھا، جس کی بنیاد پر اسے مشروط چیک تسلیم کیا گیا۔ مزید یہ کہ بینک افسر نے بھی عدالت میں بیان دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ یہ چیک بطور سیکیورٹی جاری کیا گیا تھا۔
39 لاکھ 50 ہزار روپے کے دعوے کا ثبوت کمزور
مدعی کی جانب سے 39 لاکھ 50 ہزار روپے کی واجب الادا رقم کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے اس کے ثبوت کو کمزور قرار دیا:
حساب کتاب کی صرف نقل پیش کی گئی، اصل کھاتے عدالت میں پیش نہیں کیے جا سکے۔
نقل پیش کرنے کے لیے عدالت سے باقاعدہ اجازت بھی حاصل نہیں کی گئی۔
جو کھاتہ پیش کیا گیا وہ "ایم اے فارم” کا تھا، جبکہ چیک مدعا علیہ کے ذاتی اکاؤنٹ کا تھا۔
مال کے آرڈر پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے کھاتے کو ناقابلِ اعتبار قرار دیا۔
ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار
ان تمام وجوہات کی بنا پر عدالت نے چیک کی وصولی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
ہرجانے کا دعویٰ بھی مسترد
دوسری جانب مدعا علیہ کی طرف سے کیا گیا ہرجانے کا دعویٰ بھی ثبوت نہ ہونے کے باعث مسترد کر دیا گیا۔ جسٹس عاصم حفیظ نے تمام متعلقہ اپیلیں خارج کرتے ہوئے حکم دیا کہ کسی فریق کو مقدمے کا خرچہ ادا نہیں کرنا ہوگا۔











