اسلام آباد (پنجاب پوسٹ) وفاقی آئینی عدالت نے مری میں 577 کنال سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ منسوخی کے خلاف دائر اپیلیں خارج کر دیں۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے 40 ارب روپے سے زائد مالیت کی زمین کا قبضہ پنجاب حکومت کو دینے کا حکم دیا۔
عدالت میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مؤقف اختیار کیا کہ سیٹلمنٹ اسکیم کے تحت صرف زرعی اراضی الاٹ ہو سکتی تھی، جبکہ یہ زمین شہری علاقے میں ہے۔ اس لیے الاٹمنٹ غیرقانونی تھی۔
مزید پڑھیں:ایک ماہ میں ہیلپ لائن 15 پر 7 لاکھ 24 ہزار فیک کالز ، شہری کیا پوچھتے رہے؟: مری کی 577 کنال سرکاری زمین کا فیصلہ: وفاقی آئینی عدالت نے اپیلیں خارج کر دیںعدالت کو بتایا گیا کہ زمین کے کچھ حصے پر کوہسار یونیورسٹی بن رہی ہے، کچھ حصہ گرلز گائیڈز اور اسکاؤٹس کے پاس ہے۔ باقی زمین مری بیوٹیفیکیشن پروجیکٹ سمیت عوامی منصوبوں کے لیے استعمال ہو گی۔
عدالت نے دلائل کے بعد اپیلیں خارج کرتے ہوئے زمین کا قبضہ پنجاب حکومت کو دینے کی ہدایت کر دی۔
















2 پر “مری کی 577 کنال سرکاری زمین کا فیصلہ: وفاقی آئینی عدالت نے اپیلیں خارج کر دیں” جوابات
[…] […]
[…] […]