وزیراعلیٰ مریم نواز کی ڈپٹی کمشنرز کو سخت ہدایات، فصلوں کی باقیات جلانے پر 100 فیصد کنٹرول اور ہسپتالوں کی بہتری کے لیے تین دن کی مہلت

لاہور(پنجاب پوسٹ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ بہتر کارکردگی پر شاباش ملے گی جبکہ بدترین کارکردگی پر وارننگ دی جائے گی۔ انہوں نے ہسپتالوں کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے تین دن کی مہلت دی اور فصلوں کی باقیات جلانے پر سو فیصد کنٹرول کا حکم دیا۔ اجلاس میں بیوٹیفکیشن منصوبوں میں تساہل پر برہمی کا اظہار بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ کے سربراہ اور معاون خصوصی شعیب مرزا نے ہر ضلع سے متعلق کے پی آئی رپورٹ پیش کی۔ اس میں پرائس کنٹرول، روڈ اینڈ سٹریٹ سیفٹی اور عوامی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ ڈویلپمنٹ مانیٹرنگ، ریگولیشن اینڈ انفورسمنٹ، اربن آرڈر، کلین اینڈ گرین پنجاب، عوامی مقامات اور سٹیزن سروسز کی صورتحال بھی زیر غور آئی۔ ای بز، کتے کے کاٹنے کے واقعات، ستھرا پنجاب، ہسپتالوں اور سکولوں سمیت دیگر امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

مری، گوجرانوالہ، اٹک، بہاولپور، چکوال، جہلم، لیہ اور ساہیوال کو بہترین کارکردگی پر شاباش دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کو شاندار بیوٹیفکیشن پراجیکٹ پر خصوصی طور پر سراہا گیا۔ اجلاس میں ایمن آباد، کامونکی اور نوشہرہ ورکاں کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے فصلوں کی باقیات جلانے پر سو فیصد کنٹرول کا حکم دیا۔ اوکاڑہ اور دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ان واقعات پر قابو نہ پانے پر وارننگ جاری کی گئی۔

وزیراعلیٰ نے بعض اضلاع میں بیوٹیفکیشن پلان کی تکمیل اور معیار میں تساہل پر برہمی ظاہر کی۔ انہوں نے سکیموں میں پائیداری اور معیار پر خصوصی توجہ دینے کا حکم دیا اور ہر سکیم میں فواروں سمیت دیگر واٹر فیچرز شامل کرنے کی ہدایت کی۔ اضلاع کے بارے میں مزید فیصلے یہ ہوئے:

اکبر بازار، میاں چنوں کے مین بازار اور جہانیاں کے اللہ داد بازار کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

مین بازار، اکبر بازار، ہمایوں بازار، چھوٹا اڈہ بازار، صفدرآباد بازار، شرقپور اور مریدکے کے منصوبوں پر رپورٹ پیش کی گئی۔

چار بیوٹیفکیشن پلان نومبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

پانچ منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور ڈی سی کو گرین بیلٹس پر توجہ دینے کا کہا گیا۔

ڈپٹی کمشنر کو نئی سکیمیں پراجیکٹ میں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

سکیمیں اوریجنل ڈیزائن سے مختلف ہونے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے گورننس اور روڈ مینٹی نینس کے لیے خصوصی سکواڈ قائم کرنے کا حکم دیا۔ یہ سکواڈ 12 گھنٹے انسپکشن کرے گا اور مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ:

1-سٹریٹ لائٹس سو فیصد فنکشنل اور مین ہول سو فیصد ڈھکے ہوئے ہوں۔
2-زیبرا کراسنگ اور سکول سیفٹی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
3-اسسٹنٹ کمشنرز واٹر فلٹریشن پلانٹس فوری ٹھیک کروائیں۔
4-جنرل بس ٹرمینلز اور گرین بس شیڈز کی تعمیر، مرمت اور صفائی یقینی بنائی جائے۔
5-فوڈ سٹریٹ اور فوڈ کارٹس بہتر افراد اور کمپنیوں کو دی جائیں۔

ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو روزانہ ہسپتالوں کے دورے کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ہسپتالوں کی ڈیپ کلیننگ اور روڈ واشنگ روزانہ کرانے کا بھی حکم دیا گیا۔ اوپن پلاٹس پر کوڑا کرکٹ ڈالنے والے مالکان کو پہلے وارننگ، پھر بھاری جرمانہ اور تیسرے مرحلے میں ایف آئی آر کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب کو انکروچمنٹ فری بنانے کا حکم دیتے ہوئے تجاوزات کے خلاف مشترکہ آپریشن کی ہدایت کی۔ وال چاکنگ، کٹے پھٹے بینرز اور چھوٹے اشتہارات دیواروں سے اتارنے اور صوبہ بھر میں آوارہ کتوں پر قابو پانے کی بھی ہدایت کی گئی۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ لین مارکنگ، عمارتوں پر پینٹ اور صاف ستھری سڑک دیکھ کر اچھے شہر کا تاثر ابھرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز اور انتظامیہ کی لاپرواہی سے ان کی ساکھ پر حرف آتا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جا کر طلبہ کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹس اور سکیموں کے بارے میں آگاہ کریں۔ انہوں نے ہر ڈی سی کو اپنے ضلع کی معاشی ترقی کے لیے ڈسٹرکٹ اکنامک پلان تیار کرنے کا بھی کہا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے