لاہور میں 687 بچوں کے والدین پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری ، بچوں کو کیسے قطرے پلائے گئے ؟

لاہور(پنجاب پوسٹ) ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز کی زیر صدارت انسداد پولیو مہم کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بریفنگ کے دوران انکشاف کیا گیا کہ مہم کے ابتدائی تین دنوں میں 687 انکاری کیسز سامنے آئے، یعنی ایسے بچوں کے والدین نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔ تاہم متعلقہ ٹیموں کی کوششوں سے ان تمام انکاری کیسز کو کامیابی کے ساتھ پولیو کے قطرے پلائے گئے۔

اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبداللہ خان اور سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر آصف سمیت تمام اسسٹنٹ کمشنرز، ڈسٹرکٹ ڈپٹی ہیلتھ آفیسرز (ڈی ڈی ایچ اوز) اور بین الاقوامی مبصرین نے شرکت کی۔

سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر آصف ارباب خان نے اجلاس کو مہم کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیو مہم کے پہلے تین دنوں میں 13 لاکھ 40 ہزار بچوں کی کوریج مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ اس دوران لاہور میں 9 لاکھ گھرانوں تک رسائی حاصل کی گئی۔ بریفنگ کے مطابق گھروں پر موجود نہ ہونے والے بچوں میں سے ایک لاکھ 71 ہزار بچوں کو بھی قطرے پلا کر ان کی کوریج مکمل کی گئی۔

ڈپٹی کمشنر لاہور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ہر پانچ سال تک کے بچے کو پولیو ویکسین پلانا یقینی بنایا جائے اور کوئی بچہ اس سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کریں تاکہ مہم کے اہداف مکمل طور پر حاصل کیے جا سکیں۔

کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ایک قومی فریضہ ہے اور اس مقصد کے لیے ہر سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو مہم میں پانچ سال تک کے تمام بچوں کی کوریج لازمی ہے اور لاہور کو پولیو فری بنانا ہمارا عزم ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے