لاہور (پنجاب پوسٹ) پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر نے گنے کے کاشتکاروں کے سنگین مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر شوگر ملیں چلانے اور گنے کی فی من قیمت 700 روپے مقرر کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبات انہوں نے لاہور پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ میاں آصف کانجو چنیوٹ ،پاکستان کسان اتحاد ضلع قصور کے صدر سردار اورنگزیب بگوکا، مرکزی ترجمان سردار سعید جعفر ڈوگر، تحصیل چونیاں کے صدر چودھری محمد امین جٹ، سٹی صدر کنگن پور میاں اعجاز احمد وٹو اور دیگر کسان رہنما بھی موجود تھے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ کرشنگ سیزن 2026-27ء کا بلا تاخیر اغاز کیا جائے اور 10 نومبر تک ملک بھر کی تمام شوگر ملیں لازمی فعال کی جائیں تاکہ کاشتکار بروقت اپنی فصل کی کٹائی کر سکیں۔
گنے کی قیمت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں کسان کی لاگتِ پیداوار (Cost of Production) ساڑھے پانچ سو (550) روپے فی من تک پہنچ چکی ہے۔ کسانوں کی محنت اور 25 فیصد جائز منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت گنے کا سرکاری ریٹ کم از کم 700 روپے فی من مقرر کرے۔
خالد محمود کھوکھر نے مزید اپیل کی کہ ملک میں موجود سرپلس (زائد) چینی کی فوری طور پر ایکسپورٹ کی اجازت دی جائے تاکہ کسانوں کو ان کے واجبات کی ادائیگی میں التوا کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسانوں کے مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو کسان شدید معاشی بحران کا شکار ہو جائیں گے۔














