لاہور (پنجاب پوسٹ) گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی فنانسنگ میں نمایاں اضافہ حکومت کی معاشی ترجیحات میں شامل ہے، بغیر کولیٹرل قرضوں کی حد ایک کروڑ سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ایس ایم ای کنیکٹ پورٹل یکم نومبر سے فعال ہو جائے گا، جس کے ذریعے کاروباری افراد گھر بیٹھے قرضوں کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ وہ لاہور چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2026 میں ایس ایم ای فنانسنگ کا حجم بڑھ کر ایک ہزار 110 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے تحت 80 ہزار درخواست گزاروں کے لیے 521 ارب روپے کے قرضے منظور کیے گئے، جبکہ وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر اسکیم کے تحت صفر سے 7 فیصد مارک اپ پر قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر نے کہا کہ ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے صنعت، حکومت، ایگزم بینک اور کمرشل بینکوں کے اشتراک سے مشترکہ فنانسنگ کا نظام بنایا جائے۔ ایک ہزار ایس ایم ایز منتخب کرکے ان کی فنانسنگ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے قابلِ عمل ماڈل تیار کیا جائے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک اور لاہور چیمبر کے شکایات مراکز کو منسلک کرنے اور بینکوں کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کرنے کی تجویز بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی صنعتوں کو روزگار میں اضافے کی بنیاد پر مراعاتی قرضے فراہم کیے جائیں۔
سینئر نائب صدر لاہور چیمبر سردار عثمان غنی نے اسلامی بینکوں کے لیے ایس ایم ای فنانسنگ کا کم از کم 5.9 فیصد ہدف مقرر کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ایس ایم ایز کو 204 ارب روپے کی اضافی فنانسنگ فراہم کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسلامی بینکوں کے ایس ایم ای پورٹ فولیو میں بیڈ ڈیٹ کا تناسب 2.2 فیصد ہے، جبکہ مجموعی بینکاری شعبے میں یہ شرح 5.5 فیصد ہے۔
نائب صدر لاہور چیمبر چوہدری خادم حسین نے کہا کہ کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے اجلاس میں پیش کی گئی تجاویز پر عملی پیش رفت ضروری ہے۔ ایس ایم ایز ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
اجلاس میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر اختر جاوید، چیف منیجر انصر افتخار بٹ، سینئر ڈپٹی چیف منیجر محمد طاہر، ایگزم بینک کے سی ای او شہباز حسین سید، لاہور چیمبر کے سابق نائب صدور اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران سمیت دیگر کاروباری شخصیات نے شرکت ک











