لاہور: ( پنجاب پوسٹ )مہناز معمر رانا اور معمر شفقت رانا کے درمیان تنسیخِ نکاح کے مقدمے میں مصالحت کی کوشش ناکام ہوگئی۔ فیملی کورٹ کے حکم پر مقدمہ مصالحت کے لیے اے ڈی آر سینٹر لاہور بھجوایا گیا تھا، جہاں شوہر معمر شفقت رانا پیش ہوئے، تاہم اہلیہ مہناز معمر رانا نے مصالحتی کارروائی میں شرکت سے انکار کر دیا۔
اے ڈی آر سینٹر کے ثالث محمد بلال خان کی جانب سے فیملی کورٹ کے جج زاہد بشیر کو بھجوائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقدمے کی مدعیہ مہناز معمر رانا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے مصالحتی مرکز آنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ مدعا علیہ معمر شفقت رانا کے ساتھ کسی صورت صلح یا مفاہمت نہیں کرنا چاہتیں اور کسی بھی صورت میں مصالحتی مرکز نہیں آئیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : فیصل آباد: ادکاراہ ندا چوہدری کی گاڑی پر فائرنگ، مقدمہ درج، ملزمان کون نکلے ؟
رپورٹ کے مطابق معمر شفقت رانا مصالحتی کارروائی کے لیے مرکز میں پیش ہوئے، تاہم مدعیہ کی عدم شرکت اور صلح سے انکار کے باعث مصالحتی عمل کو ناکام قرار دے دیا گیا۔
ثالث محمد بلال خان نے مصالحتی کارروائی ناکام ہونے کے بعد مقدمے کا حوالہ مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ فیملی کورٹ کو واپس بھجوا دیا ہے۔ دونوں فریقین کو متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
اداکار معمر رانا کی اہلیہ کے مطابق ادکارہ معمر رانا شراب پی کر تشدد کرتےاور گالیاں نکالنے ہیں،معمر رانا سے 24 اکتوبر 1998 میں شادی ہوئی شادی کو 28برس گزر چکے ہیں اور دو بیٹیاں ہیں ،بیٹیوں کے سامنے گالم گلوچ کرتے ہیں۔معمر رانا گھر کے اخراجات برداشت نہیں کر رہے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ تنسیخِ نکاح کے دعوے سے متعلق ہے اور اے ڈی آر سینٹر کی رپورٹ صرف مصالحتی عمل کی ناکامی سے متعلق ہے، مقدمے کا حتمی فیصلہ فیملی کورٹ نے کرنا ہے۔












