لاہور: ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب کے سب سے بڑے چلڈرن ہسپتال کی دوسری منزل پر قدم رکھیں تو گیلری میں چوہے بے خوف گھومتے نظر آتے ہیں۔ کوئی ڈر، کوئی جھجک نہیں، جیسے یہ جگہ انہی کی ہو۔
اسی گیلری میں، انہی چوہوں کی موجودگی میں، نومولود بچوں کے کپڑے دھو کر سکھانے کے لیے ڈالے جاتے ہیں۔ وہی کپڑے جو کل کسی ننھے مریض کے جسم سے لگیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : گوجرہ: مضر صحت اشیاء کی بڑی کھیپ تلف، 16 لاکھ روپے جرمانے عائد
معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ چند قدم کے فاصلے پر سرجیکل آپریشن تھیٹر موجود ہے، وہ جگہ جہاں معمولی سا انفیکشن بھی زندگی اور موت کا فرق بن سکتا ہے۔ ایسے حساس ماحول کے اتنے قریب چوہوں کی موجودگی نہ صرف صفائی کے نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ مریضوں، خصوصاً نومولود بچوں کے تحفظ پر بھی سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔
دو ارب کا بجٹ، مگر صفائی کا یہ حال؟
اعداد و شمار کے مطابق چلڈرن ہسپتال کا سالانہ بجٹ تقریباً دو ارب روپے بتایا جاتا ہے۔ اتنے بڑے بجٹ اور وسائل کے باوجود اگر دوسری منزل کی صفائی کا یہ عالم ہے تو انتظامی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
ہسپتال انتظامیہ سہولیات اور اعلیٰ انتظامی معیار کے دعوے ضرور کرتی ہے، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
ذمہ دار کون؟
جہاں بچوں کو شفا اور تحفظ ملنا چاہیے، وہاں اگر چوہے آزادانہ گھوم رہے ہوں تو اس غفلت کی ذمہ داری کون لے گا؟ کیا متعلقہ حکام اس صورتحال کا نوٹس لے کر ہسپتال میں صفائی اور حفظانِ صحت کے انتظامات بہتر بنائیں گے، یا ننھے مریض یونہی خطرے کے سائے میں علاج کراتے رہیں گے؟













