لاہور (پنجاب پوسٹ) میو ہسپتال کے صفائی کرنے والے ملازمین کو پانچ ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے، 32 لاکھ روپے ادا کرنے کے باوجود پلاٹ نہ ملنے اور سود خوروں کی دھمکیوں سمیت شہریوں کی مختلف شکایات ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی کھلی کچہری میں پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے متعلقہ افسران کو شہریوں کے مسائل فوری حل کرنے اور قانونی کارروائی کی ہدایات جاری کر دیں۔
میو ہسپتال کے صفائی کرنے والے ملازمین نے شکایت کی کہ ٹھیکیدار کی جانب سے انہیں پانچ ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ ملازمین اپنا مسئلہ لے کر ڈی آئی جی آپریشنز کی کھلی کچہری میں پہنچے، جس پر فیصل کامران نے ایس ایچ او گوالمنڈی کو ٹھیکیدار سے میٹنگ کرکے معاملہ فوری حل کروانے کا حکم دیا۔
دوسری جانب پرائز بانڈ فروخت کرنے والے شہری نے اسٹیٹ بینک کے باہر موجود ٹاؤٹ مافیا کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں کی شکایت کرتے ہوئے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی سول لائنز کو شہری کو تحفظ فراہم کرنے اور قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔
کھلی کچہری میں ایک خاتون نے بھی اپنی فریاد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 32 لاکھ روپے ادا کرنے کے باوجود اسے پلاٹ نہیں دیا گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایس ایچ او چوہنگ کو خاتون کی رقم واپس دلوانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حکم دیا۔
اسی طرح سود خوروں کی جانب سے دھمکیاں ملنے کی شکایات پر ڈی آئی جی آپریشنز نے متعلقہ ایس ایچ اوز، جن میں کاہنہ، باٹا پور اور چوہنگ شامل ہیں، کو کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا تھا کہ پولیس ہر مظلوم کی مدد کے لیے الرٹ ہے، شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں قانونی رہنمائی دینا پولیس کا فرض ہے۔ شہریوں کے مسائل کے حل اور ان کی براہِ راست شنوائی کے لیے وہ ہفتے کے چھ روز اپنے دفتر میں کھلی کچہری لگاتے ہیں، جبکہ ہر اتوار دوپہر 12 بجے فیس بک لائیو کے ذریعے بھی شہریوں کی شکایات اور تجاویز سنتے ہیں۔









