لاہور (پنجاب پوسٹ) یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سلمیٰ بٹ نے کہا کہ بدلتے موسم، بڑھتا درجہ حرارت اور پانی کی قلت زرعی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے باعث غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے جدید زرعی طریقوں اور پائیدار زرعی پالیسیوں کو فروغ دینا ضروری ہے
۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے پانی کا مؤثر استعمال اور ماحول دوست زرعی طریقے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ غذائی تحفظ کا تقاضا ہے کہ خوراک کی دستیابی، معیار، غذائیت اور عوام کی قوتِ خرید پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ہر فرد کو معیاری خوراک تک رسائی حاصل ہو سکے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے خوراک کی تیاری، ذخیرہ، ترسیل اور فروخت کے تمام مراحل کی نگرانی ضروری ہے۔ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے خوراک میں ملاوٹ کا خاتمہ اور فوڈ سیفٹی قوانین پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے، جبکہ خوراک کے معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
سلمیٰ بٹ نے مزید کہا کہ فوڈ سیفٹی اور غذائی تحفظ کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں، کسانوں، کاروباری طبقے اور عوام کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔ محفوظ خوراک کی فراہمی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ خوراک سے وابستہ تمام شعبوں کو معیار برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ فوڈ سیفٹی، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے شعبے ہیں۔ ان شعبوں میں مربوط حکمت عملی اپنا کر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، غذائی قلت پر قابو پانے اور عوامی صحت کے تحفظ کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔












