لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کا کسی مقدمے میں فریق ہونا ہی اسے اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق خصوصی عدالت میں منتقل کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار کے لیے تنازع کا غیر منقولہ جائیداد سے متعلق ہونا بھی ضروری ہے۔ عدالت نے طلاق کی دستاویزات سے متعلق مقدمہ خصوصی عدالت منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ طلاق کی دستاویزات کی قانونی حیثیت کا تعین بذاتِ خود جائیداد کی ملکیت یا قبضے کا تنازع نہیں ہے۔
جسٹس خالد اسحاق نے ریحانہ ملک اور دیگر کی آئینی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے جائیداد سے متعلق تنازعات کے لیے خصوصی فورم فراہم کرنا قانون کا مقصد ہے، تاہم خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون میں مقررہ شرائط کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: غیر ملکی خاتون ڈیانا سے اجتماعی زیادتی کے ملزم کے شاملِ تفتیش نہ ہونے کا معاملہ
عدالت کے مطابق خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ فریق اوورسیز پاکستانی ہو اور تنازع غیر منقولہ جائیداد سے تعلق رکھتا ہو۔ محض کسی اوورسیز پاکستانی کا مقدمے میں فریق ہونا خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار کو متحرک کرنے کے لیے کافی نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ مستقبل میں وراثتی حقوق پر ممکنہ اثر پڑنے کی بنیاد پر بھی کسی مقدمے کو خودبخود جائیداد کی ملکیت یا قبضے کا تنازع قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے طلاق کی دستاویزات سے متعلق مقدمے کو خصوصی عدالت منتقل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے آئینی درخواست خارج کر دی۔











