لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب حکومت نے سٹامپ (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2026 کے تحت جائیداد کی منتقلی، ہبہ ناموں، پراپرٹی کے تبادلے اور کرایہ ناموں سے متعلق سٹامپ ڈیوٹی کے نظام میں اہم تبدیلیاں تجویز کر دی ہیں، جن کے تحت قریبی رشتہ داروں کے درمیان جائیداد ہبہ کرنے پر سٹامپ ڈیوٹی ختم جبکہ دیگر افراد کو جائیداد ہبہ کرنے پر ڈیوٹی کی شرح کم کر دی گئی ہے۔
مجوزہ ترامیم کے مطابق میاں بیوی، والدین، بچوں اور بہن بھائیوں کے درمیان جائیداد ہبہ کرنے پر سٹامپ ڈیوٹی سے چھوٹ دی جائے گی، جبکہ دیگر افراد کو جائیداد ہبہ کرنے پر سٹامپ ڈیوٹی کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب نے مختلف محکموں پر آسامیوں کا اعلان کردیا ،کس محکمے کو کتنے آفیسر ملے؟
ترامیم کے تحت یکساں مالیت کی جائیدادوں کے تبادلے پر سٹامپ ڈیوٹی صرف ایک ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے پراپرٹی کے تبادلے کے اخراجات میں کمی متوقع ہے۔
رہائشی کرایہ ناموں کے لیے سالانہ کرائے کے مطابق 3 ہزار سے 25 ہزار روپے تک فکسڈ سٹامپ ڈیوٹی مقرر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب میں سرکاری لیز پر سٹامپ ڈیوٹی معاف کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
سٹامپ ڈیوٹی کے نظام میں مجوزہ تبدیلیوں سے جائیداد کی منتقلی، ہبہ ناموں اور پراپرٹی کے تبادلے کے اخراجات پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ ان ترامیم کا مقصد مختلف نوعیت کے جائیداد کے معاملات پر سٹامپ ڈیوٹی کی شرحوں اور قواعد میں ردوبدل کرنا ہے۔












