لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے پنجاب لائف انشورنس کمپنی کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پنجاب اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران حکومتی رکن امجد علی جاوید کے سوالات کے جواب میں بتایا کہ صوبائی کابینہ نے 2024ء میں محکمہ خزانہ پنجاب کے زیر اہتمام کمپنی کے قیام کی اجازت دی تھی۔ کمپنی کے قیام سے سرکاری ملازمین کو دیگر انشورنس کمپنیوں کے مقابلے میں کم پریمیم پر سہولت فراہم کی جائے گی۔
مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بتایا کہ پنجاب لائف انشورنس کمپنی کی رجسٹریشن کے لیے ضروری دستاویزات، میمورنڈم آف ایسوسی ایشن اور آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن کی تیاری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ کمپنی کے قیام سے حکومتی اداروں کے ذریعے فوری طور پر 10 لاکھ کلائنٹس دستیاب ہوں گے، جبکہ حکومت کو توقع ہے کہ یہ کمپنی کامیاب ثابت ہوگی اور اس میں اربوں روپے لائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی انشورنس آرڈیننس 2000ء کے مطابق لائف انشورنس سے متعلق مختلف اقسام کے کاروبار کا آغاز اور اجرا کرے گی۔ اس میں بچوں کے انڈومنٹس، بیماری کی انشورنس اور لائف انشورنس کمپنیوں کے ذریعے فراہم کی جانے والی دیگر سہولیات شامل ہوں گی۔
وزیر خزانہ کے مطابق کمپنی لائف انشورنس سے متعلق خطرات کی ری انشورنس اور کاؤنٹر ری انشورنس کا کاروبار بھی کرسکے گی، تاہم اسے براہ راست یا بالواسطہ بینکاری یا غیر بینکاری سے متعلق کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کمپنی لوگوں کو مکان بنانے کے لیے قرضے دینے اور سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری بھی نہیں کرسکے گی۔
پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پنجاب کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو 1300 ارب روپے کے بجائے 750 ارب روپے ملے، جس کے باعث حکومت اپنے کئی کام نہیں کروا سکی۔
پنجاب ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی
پنجاب ریونیو اتھارٹی سے متعلق سوالات کے جواب میں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بتایا کہ مالی سال 2025-26ء کے دوران اتھارٹی نے 38 فیصد گروتھ حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کے دفاتر 36 اضلاع میں قائم ہیں، جبکہ 41 اضلاع میں دفاتر قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگیوں میں بعض کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس چوری کی جا رہی تھی اور ذاتی اکاؤنٹس میں رقوم منتقل ہونے کے معاملات بھی سامنے آئے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے پنجاب ریونیو اتھارٹی کو ادائیگیاں کی جائیں۔
ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
رکن پنجاب اسمبلی ندیم قریشی نے ملتان میں ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ متعدد افراد کو ٹیکس ادا نہ کرنے کے باوجود صرف شوکاز نوٹس جاری کرکے چھوڑ دیا گیا، جبکہ بعض کاروباری اداروں کے اکاؤنٹس سے ایک نوٹس کے ذریعے ٹیکس وصول کیا گیا۔
ندیم قریشی کے مطابق 156 افراد کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جن کے ذمے 88 کروڑ روپے واجب الادا ہیں، تاہم ان کے خلاف مزید کارروائی نہیں کی گئی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت پنجاب ایک ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کرکے عوامی منصوبوں پر خرچ کرے گی۔










