لاہور(پنجاب پوسٹ)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے خطاب کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی ناکامیاں عوام کے سامنے رکھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کیا، لیکن فارم 47 کی حکومت نے ملک کا جو حال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
معاشی صورتحال پر تنقید
معین ریاض قریشی نے دعویٰ کیا کہ چار سال کے دوران مہنگائی 150 فیصد، غربت 48 فیصد اور بے روزگاری 7.3 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ڈالر 178 روپے سے بڑھ کر 280 روپے کر دیا گیا۔ ان کے مطابق پیٹرول 150 سے 382 روپے تک جا پہنچا، آٹا 3500 روپے ہو گیا، بجلی کا یونٹ 60 روپے اور یوریا کھاد 1900 سے 4000 روپے ہو گئی، جبکہ ادویات بھی مہنگی ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے عوام کو دنیا کی تیسری بڑی غربت تحفے میں دی، جبکہ بھارت میں 37 کروڑ لوگوں کو خطِ غربت سے اوپر لایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت فارن کرنسی سے گندم خرید رہی ہے، جس کی پیش گوئی وہ پہلے ہی کر چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ہر موقع پر عوام کی آواز اٹھائی، ماورائے عدالت قتل سمیت ہر مسئلہ اسمبلی میں اٹھایا۔ انہوں نے ایوان میں وزرا کی کم حاضری پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "غنیمت ہے اجلاس میں دو ہی وزیر موجود ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکوٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی بازیابی کے لیے درخواست مسترد کر دی
امن و امان اور خواتین و بچوں کے تحفظ کا سوال
اپوزیشن لیڈر نے سوال اٹھایا کہ چھوٹی بچیوں کے ریپ اور قتل کے واقعات ہو رہے ہیں، تو حکومت بتائے کہ اقدامات کے بعد ان واقعات میں کتنی کمی آئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رضا ڈار کو کلین چٹ دے دی گئی، جبکہ حکومتی ارکان "ایک ریاست، دو دستور نامنظور” کا نعرہ لگاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پر ردعمل
معین ریاض قریشی نے کہا کہ چالیس سال پہلے بلوچستان میں ایمرجنسی سے واقفیت نہیں تھی، مگر اب خیبر پختونخوا میں طاقت کے ذریعے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس سے پہلے لگائی گئی ایمرجنسیوں سے کیا فوائد حاصل ہوئے۔ ان کا الزام تھا کہ فارم 47 کی حکومت نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ایمرجنسی لگائی۔
انہوں نے کہا کہ فارم 47 کی حکومت وہ "ڈائن” ہے جو وقت آنے پر اپنے بچوں کو بھی کھا جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب طے شدہ ایجنڈے کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی تو ایمرجنسی لگائی جائے گی، اور جب حکومت کے ساتھ بھی ایسا ہوگا تو پھر ان سے پوچھا جائے گا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سہیل آفریدی، خالد خورشید، جنید اکبر اور سواتی صاحب کو اغوا کیا گیا، اور سوال کیا کہ سپیکر خیبر پختونخوا کے ساتھ غیر قانونی اقدام کیوں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:استعفوں کا نہیں، اتحاد کا وقت ہے، کوٹ لکھپت جیل سے پی ٹی آئی قیادت کو اہم پیغام
دہشت گردی کے خلاف جنگ
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ دہشت گردی سے موجودہ قیادت کو کوئی فرق نہیں پڑتا، اور دہشت گردی کی آگ ان لوگوں کو نہیں لپیٹے گی جو ملک سے باہر چلے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ ہمیں ہی فورسز کے ساتھ مل کر ختم کرنی ہے، اور عوامی اشتراک کے بغیر یہ جنگ ختم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ عام شہری ہوں یا فورسز کے جوان، جو بھی شہید ہو رہے ہیں وہ ہمارے اپنے ہیں۔









