لاہور (پنجاب پوسٹ) رانا سکندر حیات نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کے انقلاب کی جانب بڑھ رہا ہے اور تعلیمی اداروں میں طلبہ روبوٹکس میں مہارت حاصل کر رہے ہیں۔ اس سال ہونے والے اسٹیم مقابلوں میں 10 لاکھ طلبہ حصہ لے رہے ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں میں طلبہ بڑھ چڑھ کر ان مقابلوں میں شرکت کر رہے ہیں۔
وزیر تعلیم کے مطابق نویں جماعت میں سائنس کے ساتھ ٹیک ایجوکیشن بھی پڑھائی جا رہی ہے اور گزشتہ سال نویں جماعت کے 52 ہزار طلبہ نے ٹیک ایجوکیشن کے ساتھ امتحان دیا۔ نئے تعلیمی سال سے پہلی جماعت کے نصاب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) شامل کی جا رہی ہے، جبکہ تمام جامعات میں گریجویشن کی ڈگری کے لیے اے آئی کورس لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی کے آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دو سال کے دوران جامعات کے ایک لاکھ 10 ہزار نوجوانوں کو جدید لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس فراہم کی گئیں، جبکہ ایک لاکھ طلبہ اور اساتذہ کو مفت گوگل کورسز بھی کروائے گئے۔
رانا سکندر حیات نے کہا کہ رواں سال 5 ہزار اسکولوں میں اسٹیم اور روبوٹکس لیبارٹریز مکمل کر لی جائیں گی۔ ڈگری یافتہ نوجوانوں کو سرکاری اسکول چلانے کے مواقع فراہم کرنے سے 40 ہزار انٹرپرینیورز کو روزگار ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ملک کی ترقی کے لیے اہم ہے۔









