لاہور ( پنجاب پوسٹ )پنجاب کو فلم، ڈرامہ، ثقافت اور سیاحت کا مرکز بنانے کے لیے اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے۔ جدید سہولیات سے آراستہ فلم سٹی کا افتتاح 15 دسمبر کو ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے اور ملک کا پہلا رائلٹی قانون بنانے کی منظوری دی ہے۔ اس کے ساتھ پنجاب میں تیار ہونے والی پنجابی فلموں پر 35 فیصد اور اردو فلموں پر 20 فیصد ریبیٹ دینے کی بھی منظوری دی گئی۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت پنجاب فلم اتھارٹی کے پہلے اجلاس میں فلمی صنعت کی بحالی اور لاہور کو دوبارہ فلم انڈسٹری کا مرکز بنانے کے لیے اہم فیصلے ہوئے۔ اجلاس میں فلم اینڈ میوزک اسکول، فلم ٹریڈنگ ہاؤس، پوسٹ پروڈکشن سہولت، اسٹوڈیو کمپلیکس، جدید فلم اسٹوڈیوز اور بڑے کنونشن سینٹر کے قیام کی منظوری دی گئی۔ مریم اورنگزیب نے ہدایت کی کہ ریبیٹ فریم ورک آئندہ ہفتے اتھارٹی میں پیش کیا جائے۔
فلم سازی کے لیے موزوں مقامات کے انتخاب میں سہولت دینے کے لیے ون ونڈو نظام متعارف کرایا جائے گا۔ فلم سٹی اتھارٹی کے 58 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد کے بجٹ کو جائزے کے لیے فنانسنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ اتھارٹی کی 53 آسامیوں میں سے پہلے مرحلے میں 26 افراد بھرتی کیے جائیں گے۔ اجلاس میں چھ مختلف کمیٹیوں کے قیام اور پنجاب فلم فنڈ کمیٹی کی تشکیل سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پرانے سینما گھروں کی بحالی، وہاں سولر سسٹم کی تنصیب، عوام کو کم قیمت تفریحی سہولیات کی فراہمی اور سینما گھروں کی بکنگ آن لائن کرنے کے فیصلے بھی کیے گئے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب چاہتی ہیں کہ آئندہ پانچ سال میں پنجاب عالمی معیار کے اسکرین ٹورزم کا مرکز بنے۔ ان کے مطابق کیمرے کی آنکھ کے ذریعے دنیا کو پنجاب کی منفرد ثقافت اور نایاب ورثے سے روشناس کرایا جائے گا۔














