لاہور (پنجاب پوسٹ) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ سکھر سے کراچی پورٹ تک موٹرویز تعمیر کی جائیں گی، جبکہ کاغان اور ناران سے چین کی سرحد تک موٹروے نیٹ ورک کو توسیع دینے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں موٹرویز کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ موجودہ شاہراہوں کے معیار کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔
عبدالعلیم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے وزارت مواصلات کا چارج سنبھالا تو ادارے کی مالی صورتحال مختلف تھی، تاہم اب مواصلات کا ریونیو 66 ارب روپے سے بڑھ کر رواں برس 160 ارب روپے ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو ایک ہزار ارب روپے منافع دینے والا ادارہ بنا کر جائیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ بلوچستان کی سڑکوں پر مجموعی ریونیو میں سے 70 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ شروع کیے گئے 66 منصوبوں کی تکمیل کے لیے 3 ہزار ارب روپے درکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی پل سیلاب میں بہہ جائے تو اسے بھی دوبارہ تعمیر کرنا پڑتا ہے۔
عبدالعلیم خان کے مطابق فیصل آباد موٹروے کو 100 ارب روپے کی لاگت سے چھ رویہ کیا جا رہا ہے اور یہ منصوبہ تین ماہ میں مکمل کیا گیا ہے۔ لاہور رنگ روڈ سے پھول نگر تک بھی سڑک تعمیر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے بار بار فنڈز مانگنے کے بجائے ادارے کے اخراجات کو 50 ارب روپے تک محدود کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ موٹرویز کے موجودہ معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کا معیار مطلوبہ سطح کے مطابق نہیں۔ سمبڑیال سے کھاریاں تک موٹروے تعمیر کرنے جا رہے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ کم ہوگا، جبکہ لاہور سے سیالکوٹ موٹروے کو بھی چھ رویہ کیا جا رہا ہے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ سکھر کے بعد موٹروے موجود نہیں، تاہم اب سکھر سے کراچی پورٹ تک موٹرویز تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسی طرح کاغان اور ناران تک موٹرویز بنانے کے بعد انہیں چین کی سرحد تک توسیع دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ فیصل آباد چیمبر جا رہے ہیں کیونکہ موٹرویز کے منصوبے شروع کر دیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ این ایچ اے کو مالی طور پر مستحکم اور منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔








