اردو ادب میں بعض قلم کار ایسے ہوتے ہیں جن کی تحریریں وقت گزرنے کے باوجود اپنی دلکشی برقرار رکھتی ہیں۔ کرنل محمد خان بھی انہی ادیبوں میں شامل ہیں، جنہوں نے اپنے منفرد اندازِ تحریر، شگفتہ جملوں اور دل نشیں مزاح سے قارئین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں۔ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے 27 برس بیت گئے، مگر ان کی تحریریں آج بھی اردو ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔
ابتدائی زندگی اور ادبی سفر
کرنل محمد خان نے پانچ اگست 1910ء کو ضلع چکوال کے قصبے بلکسر میں آنکھ کھولی۔ وہ پاک فوج میں کرنل کے عہدے پر فائز رہے، تاہم ادبی دنیا میں انہیں ایک منفرد مزاح نگار کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی تحریروں میں برجستگی، شگفتگی اور زبان و بیان کی خوبصورتی نمایاں تھی۔

معروف تصانیف اور منفرد انداز
کرنل محمد خان کی ادبی شہرت کا آغاز 1966ء میں ان کی پہلی کتاب ’’بجنگ آمد‘‘ کی اشاعت سے ہوا۔ ان کی دیگر معروف تصانیف میں ’’بسلامت روی‘‘، ’’بزم آرائیاں‘‘ اور ’’بدیسی مزاح‘‘ شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں زندگی کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کا ہنر دکھائی دیتا ہے۔ وہ عام باتوں کو بھی اپنے دلچسپ اور شگفتہ انداز سے قارئین کے لیے یادگار بنا دیتے تھے۔

اردو ادب میں خدمات
کرنل محمد خان کا شمار اردو کے ان مزاح نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے قارئین کے دلوں میں مستقل جگہ بنائی۔ ان کا منفرد طرزِ تحریر آج بھی نئے لکھنے والوں کے لیے ایک مثال ہے، جبکہ ان کی کتابیں اردو طنز و مزاح کے ذخیرے میں اہم مقام رکھتی ہیں۔

27ویں برسی
کرنل محمد خان 23 اکتوبر 1999ء کو راولپنڈی میں وفات پا گئے اور انہیں ضلع چکوال میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی 27ویں برسی کے موقع پر ان کی ادبی خدمات کو یاد کیا جا رہا ہے۔ ان کی تحریریں آج بھی اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ عمدہ مزاح اور منفرد اندازِ بیان کے ذریعے قارئین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنائی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اکبری سرائے: جو کبھی مسافروں کا سہارا تھی، آج خود سہارے کی منتظر ہے









