لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور میں قومی کرکٹر حارث رؤف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائی سیریز میں پاکستان کا آغاز اچھا رہا ہے اور باؤلنگ یونٹ نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ موجودہ کرکٹ میں چار سو رنز بن رہے ہیں، اس لیے ورلڈ کپ میں کوشش کرنا ہوگی کہ ساڑھے تین سو رنز بنائے جائیں اور پھر اس ہدف کا دفاع بھی کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل ہر میچ ایک نیا چیلنج ہے اور باؤلرز کو بدلتے ہوئے کھیل کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔
حارث رؤف نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے انہیں فائدہ ہوا ہے اور اب طویل اسپیل کرنا آسان ہوگیا ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی انٹرنیشنل کرکٹ۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فور ڈے کرکٹ اسی لیے کھیلی تاکہ پاکستان کو ریڈ بال کرکٹ میں ضرورت ہو تو وہ دستیاب ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: بچوں کی صحت مند سرگرمیوں کا فروغ، کنگسٹن کالج میں سپورٹس اولمپیاڈ کا انعقاد
قومی فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ وہ شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ کافی عرصے سے کھیل رہے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باؤلنگ کوچ شان ٹیٹ کھلاڑیوں کو پُرسکون رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سے سیکھنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ٹیم زیادہ رنز بناتی ہے تو باؤلرز کو حوصلہ ملتا ہے، تاہم کم اسکور کی صورت میں باؤلرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ باؤلرز کا بنیادی کردار ٹیم کے لیے وکٹیں حاصل کرنا ہے اور اس میں رفتار بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
حارث رؤف نے مزید کہا کہ ان سے ہمیشہ تیز باؤلنگ کی توقع کی جاتی ہے اور وہ اس پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چھکے صرف انہیں نہیں بلکہ دیگر باؤلرز کو بھی پڑتے ہیں، تاہم وہ ہر میچ میں اچھی کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے چھاتی کے کینسر سے آگاہی مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو منعقد ہونے والی مہم میں سب کو شرکت کرنی چاہیے۔









