لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے دیپالپور کے 2016 کے عبدالوحید قتل اور اقدامِ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ جسٹس عہبر گل خان نے ملزم نسیم احمد کی عمر قید کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی سزا برقرار رکھی، جبکہ مقتول کی بیوہ شمیم بیگم کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔
عدالت نے فیصلے میں زخمی چشم دید گواہوں ہجاز رحیم اور فائزہ رحیم کی گواہی کو قابلِ اعتماد قرار دیا۔ فیصلے کے مطابق واقعے کے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر ایف آئی آر درج ہوئی، جبکہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ میں برآمد شدہ 30 بور پستول سے ملنے والے خول میچ ہوئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مدعی کے منحرف ہونے اور صلح کے حلف نامے کے باوجود دیگر قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر سزا برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی دفعہ 302 بی کے تحت عمر قید اور چار لاکھ روپے معاوضے کی سزا برقرار رکھی، جبکہ اقدامِ قتل کے مقدمے میں دفعہ 324 کے تحت دو مرتبہ پانچ، پانچ سال قید اور جرمانے کی سزائیں بھی برقرار رہیں۔ عدالت نے ملزم کی اپیل اور مقتول کی بیوہ کی فوجداری نظرثانی درخواست ایک ہی فیصلے کے ذریعے خارج کر دیں۔









