بیٹا بری، ایف آئی آر خارج، مگر 60 ہزار واپس نہ ملے،لاہور ہائیکورٹ نے ایس پی شیخوپورہ کو طلب کر لیا

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے پلاسٹک کے شاپر کی پتنگ اڑانے کے الزام میں درج مقدمے کے دوران کریانہ سٹور سے 60 ہزار روپے چرانے کے معاملے پر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے ایس پی شیخوپورہ غلام عباس کو 29 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

جسٹس شہرام سرور چوہدری نے محمد اشرف کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے نصیر گجر ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ تھانہ صدر فاروق آباد پولیس نے اس کے بیٹے کے خلاف پلاسٹک شاپر کی پتنگ اڑانے کے جرم میں مقدمہ درج کیا۔ اس دوران پولیس اہلکار اس کی دکان سے 60 ہزار روپے اٹھا کر لے گئے۔

درخواست گزار نے مزید بتایا کہ اس کا بیٹا بعد ازاں اس کیس سے بری ہو گیا اور ایف آئی آر بھی خارج ہو گئی۔ تاہم رقم واپس نہ کیے جانے پر اس نے متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی۔

درخواست میں کہا گیا کہ عدالت نے اس سے قبل ڈی پی او شیخوپورہ کو قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا تھا، مگر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، جو توہین عدالت کے مترادف ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت ڈی پی او شیخوپورہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے