لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں اضافے کا باعث بننے والے سلیب سسٹم کے نفاذ کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے 3 نومبر تک مہلت دے دی۔ جسٹس خالد اسحاق نے شہری اشبا کامران کی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے رپورٹ پیش کرنے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے جواب جمع کرانے کے لیے 3 نومبر تک وقت دے دیا۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم سے متعلق پالیسی پیش کرنے کی ہدایت بھی کر رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہریوں سے لاکھوں کا فراڈ کرنے والے دو ملزمان کو سزائیں، کمرہ عدالت سے گرفتار
درخواست میں نیپرا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کا نفاذ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بل پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شامل ہیں، تاہم سلیب سسٹم کے تحت بجلی کے بل دوگنا سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق بجلی کے دوگنا سے بھی زیادہ بل بطور سزا چھ ماہ تک بھیجے جاتے ہیں۔ نیپرا ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے، سزا دینے والا ادارہ نہیں، جبکہ سلیب سسٹم نیپرا ایکٹ کی متعدد دفعات سے بھی متصادم ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا جائے۔ کیس کی مزید کارروائی 3 نومبر کو ہوگی۔









