لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے قرآنِ مجید کی مبینہ بے حرمتی کے مقدمے میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ذہنی معذوری کی بنیاد پر مجرم کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔ عدالت نے استغاثہ کے ناکام رہنے پر مجرم کی فوجداری اپیل منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس طارق محمود باجوہ نے مجرم شاہد الرحمٰن کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے خلاف تھانہ سرائے عالمگیر میں 26 جنوری 2022 کو قرآن کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ درج ہوا تھا، جس پر ایڈیشنل سیشن جج نے 20 دسمبر 2025 کو اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کی ذہنی حالت سے متعلق استغاثہ کے اپنے گواہوں کے بیانات انتہائی اہم ہیں۔ مقدمے کے گواہان کے مطابق درخواست گزار ذہنی بیمار تھا اور گھر تک محدود رہتا تھا۔ گواہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ مسجد آنے والوں اور اپنے بچوں پر بھی پتھر پھینکتا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ دو اہم گواہوں نے قرآنِ مجید کی بے حرمتی کا عمل خود دیکھنے سے انکار کیا۔ گواہان نے ملزم کو قرآن کے ساتھ مبینہ بے حرمتی کرتے ہوئے براہِ راست نہیں دیکھا۔ علاوہ ازیں جلائے گئے صفحات کی شناخت نہیں کی گئی اور نہ ہی ماچس کی ڈبیہ قبضے میں لی گئی۔ پولیس کی آمد کے وقت اور جائے وقوعہ پر قیام کے دورانیے سے متعلق گواہوں کے بیانات میں تضادات بھی پائے گئے۔
عدالت نے قرار دیا کہ شک کا ایک معقول پہلو بھی ملزم کو بری کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جب تک کسی ملزم کا جرم شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت نہ ہو جائے، اسے بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ عدالت کے مطابق ایک معقول شک بھی ملزم کو بری کرنے کے لیے کافی ہے اور یہ رعایت نہیں بلکہ اس کا قانونی حق ہے۔
عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ استغاثہ مجرم کے خلاف ٹھوس شواہد کے ساتھ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد اپیل منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا گیا۔









