لاہور(پنجاب پوسٹ) پنجاب حکومت کے اہم ترین منصوبے "مثالی گاؤں پراجیکٹ” کے حوالے سے ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے سیاسی و انتظامی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ابھی دو روز قبل ہی اس منصوبے کے لیے منظوری دی گئی تھی، مگر کرپشن اور جعلسازی کی شکایات سامنے آنے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پورا پراجیکٹ ہی بند کرنے کا حکم دے دیا۔ اس تیز رفتار فیصلے نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی ناک کے نیچے آخر کیا کھیل کھیلا جا رہا تھا اور منظوری کے وقت ان شکایات کا علم کیوں نہ ہو سکا۔
انسدادِ کرپشن پنجاب کو تحقیقات کا حکم
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کرپشن اور جعلسازی کی شکایات پر مثالی گاؤں پراجیکٹ کو بند کرتے ہوئے اینٹی کرپشن پنجاب کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات میں ذمہ دار افسران اور ٹھیکیداروں کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔
40 ارب روپے کا منصوبہ، 800 دیہات ہدف
اس منصوبے کی کل لاگت 40 ارب روپے مقرر کی گئی تھی، جس کے تحت پنجاب کے 800 دیہاتوں کو مثالی گاؤں بنایا جانا تھا۔ پہلے مرحلے میں 400 دیہاتوں کو شامل کیا گیا اور ان میں ترقیاتی کاموں کے لیے چار ارب روپے سے زائد کی رقم جاری کی گئی۔
سرگودھا ڈویژن میں کام کا آغاز
سرگودھا ڈویژن کے دیہاتوں میں ترقیاتی کام شروع کرائے گئے، جس کے لیے باقاعدہ ٹینڈرز طلب کیے گئے۔ تاہم الزام ہے کہ ٹینڈر کے اس عمل کو شفاف رکھنے کے بجائے مخصوص مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جعلی کمپنیوں کا انکشاف
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بااثر افسران اور سیاسی گٹھ جوڑ کے ذریعے پارٹنرشپ کی بنیاد پر جعلی کمپنیاں رجسٹرڈ کرائی گئیں۔ مبینہ طور پر میرٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے ملی بھگت سے ٹھیکے حاصل کیے گئے، اور ترقیاتی کاموں کے عوض ٹھیکیداروں کو ساڑھے تین ارب روپے کی ادائیگی بھی کر دی گئی۔
اسمبلی میں شکایات اور رپورٹ طلب
مثالی گاؤں پراجیکٹ میں کرپشن کی شکایات سامنے آنے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں متعلقہ افسران سے رپورٹ طلب کی تھی۔
65 فیصد سے زائد کام موقع پر موجود ہی نہیں
رپورٹ میں یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا کہ سرگودھا ڈویژن میں مثالی گاؤں پراجیکٹ کے 65 فیصد سے زائد کام موقع پر ہوئے ہی نہیں، جبکہ ان کاموں کی ادائیگیاں کر دی گئیں۔ یعنی کاغذوں میں کام مکمل دکھا کر قومی خزانے سے بھاری رقوم نکلوائی گئیں۔
اہم سوالات
اس صورتحال نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے:
جعلی کمپنیوں کو ٹھیکے کیسے ملے؟
ادائیگیوں سے پہلے کام کی تصدیق کیوں نہ کی گئی؟
اور منصوبے کی منظوری کے وقت نگرانی کا نظام کہاں تھا؟
اب نظریں اینٹی کرپشن پنجاب کی تحقیقات پر لگی ہیں، جن سے ذمہ داروں کے تعین اور رقوم کی ریکوری کی توقع کی جا رہی ہے۔











