لاہور میں سموگ کے خلاف ٹریفک پولیس کا کریک ڈاؤن تیز، 8 ہزار 961 دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے چالان، 20 ہزار 790 خستہ حال اور بغیر فٹنس گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی

لاہور (پنجاب پوسٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایت پر سموگ کے تدارک کے لیے لاہور ٹریفک پولیس کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر رات گئے خصوصی ناکے قائم کرکے کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔

دھواں چھوڑنے والی 8 ہزار 961 گاڑیوں کو چالان ٹکٹس جاری کیے گئے، جبکہ بغیر ترپال مٹی، ریت اور دیگر آلودگی کا باعث بننے والا سامان لے جانے والی 5 ہزار 745 گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اسی طرح بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ اور خستہ حال 20 ہزار 790 گاڑیوں کو بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

WhatsApp Image 2026 10 23 at 12.02.15 PM

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کا کہنا ہے کہ شہر میں آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ انتہائی خطرناک حد تک دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے لائسنس معطل کیے جائیں گے، جبکہ کمرشل گاڑیوں کے روٹ پرمٹ بھی معطل کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔ بغیر ترپال ڈھانپے مٹی اور ریت لے جانے والی ٹرالیوں اور ڈمپرز کے شہر میں داخلے پر پابندی ہے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

سی ٹی او کے مطابق مٹی، ریت اور دیگر مائننگ سائٹس پر بھی خصوصی کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، جبکہ بغیر ترپال، پانی اور دیگر حفاظتی اقدامات کے ٹریکٹر ٹرالی چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر تمام ڈی ایس پیز خصوصی کارروائیاں کر رہے ہیں اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم کی مدد سے بھی دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی نشاندہی کرکے چالان کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: صوبہ بھر میں سموگ کے تدارک کیلئے کارروائیاں تیز

سموگ کا باعث بننے والی گاڑیوں کی مرمت کے لیے متعدد سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو مراسلے بھی ارسال کیے گئے ہیں۔ سی ٹی او لاہور نے کہا کہ انسانی صحت اور عوامی تحفظ کے لیے آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے