پاکستان میں اٹامک انرجی کمیشن کے 21 ہسپتال بریسٹ کینسر کم کرنے میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟

گوجرانوالہ (پنجاب پوسٹ) اکتوبر کو دنیا بھر میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں اٹامک انرجی کینسر ہسپتال (جینم) گوجرانوالہ کے زیرِ اہتمام چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی مہم کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب کا مقصد چھاتی کے سرطان کی بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کی اہمیت اجاگر کرنا اور عوام کو ابتدائی علامات، خطرات اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا تھا۔ پاکستان میں اس وقت اٹامک انرجی کے تحت 21 ہسپتال کام کر رہے ہیں۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جینم ڈاکٹر عاصمہ سہیل نے کہا کہ آگاہی مرد و خواتین دونوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے سرطان کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بیماری کی جلد تشخیص سے علاج کے بہتر نتائج حاصل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گلاب دیوی ہسپتال میں بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی واک کا انعقاد، خواتین کو ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر بروقت تشخیص کروانے کی ہدایت،ڈاکٹر عرفان ملک

ڈاکٹر عاصمہ سہیل نے بتایا کہ اس وقت بریسٹ کینسر کے 44 فیصد کیسز کے تحت 47 ہزار 731 خواتین اس مرض سے متاثر ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 68 فیصد خواتین ہسپتال اس وقت پہنچتی ہیں جب مرض تیسری یا چوتھی سٹیج میں داخل ہو چکا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 40 سال سے کم عمر نوجوان خواتین کا بڑی تعداد میں علاج کے لیے آنا ایک بڑا المیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مرض صرف خواتین تک محدود نہیں، بلکہ مردوں میں بھی ایک سے دو فیصد کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق 10 سے 15 فیصد مریض موروثی طور پر اس مرض سے متاثر ہوتے ہیں۔

ڈائریکٹر جینم نے زور دیا کہ روزانہ ورزش کو معمول بنا کر کافی حد تک اس مرض سے بچاؤ ممکن ہے۔ آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خود معائنہ اور بروقت طبی مشورے کو اپنی عادت بنائیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے