لاہور (پنجاب پوسٹ) پاکستان ریلوے میں انفراسٹرکچر اور رولنگ اسٹاک کی خرابیوں کے باعث ٹرینوں کی بروقت آمدورفت متاثر ہونے لگی، ستمبر کے دوران ٹرین آپریشن کے 1526 گھنٹے ضائع ہوگئے، جبکہ مسافروں کو ٹرینوں کی تاخیر کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ریلوے انفراسٹرکچر کی خرابی ٹرینوں کی تاخیر کی بڑی وجہ بن گئی، جبکہ رولنگ اسٹاک کے مسائل کے باعث بھی مسافر ٹرینوں کا شیڈول متاثر ہوا۔ مختلف وجوہات کے باعث ستمبر میں ٹرین آپریشن کو گھنٹوں کے حساب سے نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ایل ڈی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، بینکوں، اسکولوں اور ریستورانوں سمیت 46 املاک سیل
اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں مسافر ٹرینوں کی بروقت آمدورفت کی شرح صرف 65 فیصد رہی۔ اس طرح ہر 100 میں سے صرف 65 ٹرینیں مقررہ وقت کے مطابق اپنی آمدورفت برقرار رکھ سکیں، جبکہ دیگر ٹرینوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
ریلوے نظام میں خرابیوں اور ٹرینوں کی تاخیر کے باعث مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ آپریشنل گھنٹوں کا ضیاع بھی ریلوے کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہا ہے۔













