لاہور (پنجاب پوسٹ)پنجاب سوشل سکیورٹی موبائل ہیلتھ سروسز کا مکمل فلیٹ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ پہنچ گیا، جہاں صنعتی محنت کشوں کو ان کے کام کی جگہ پر ہی علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ فلیٹ میں جنرل موبائل ہسپتال، ڈینٹل ہسپتال، موبائل کلینکس، بائیکس اور سکوٹیز شامل ہیں۔موبائل ہیلتھ سروسز کے جائزے کے لیے صوبائی وزیر لیبر محمد منشاء اللہ بٹ اور کمشنر سوشل سکیورٹی ذوالفقار علی کھرل سندر انڈسٹریل اسٹیٹ پہنچے۔
صوبائی وزیر نے ایک نجی فیکٹری میں موجود موبائل ہیلتھ سروسز کا معائنہ کیا اور علاج معالجے سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے محنت کشوں کو فراہم کی جانے والی ڈینٹل، ای سی جی، لیبارٹری، ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور دیگر طبی سہولیات کا بھی معائنہ کیا۔صوبائی وزیر محنت نے طبی معائنے کے لیے آئے محنت کشوں سے ملاقات کی اور ان سے سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ صنعتی ورکرز نے دورانِ کار اپنی دہلیز پر طبی سہولیات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور موبائل ہیلتھ سروسز کے آغاز پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر اور کمشنر سوشل سکیورٹی کو سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کے تنظیمی ڈھانچے اور دیگر انتظامی معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ محنت کشوں کو فراہم کردہ طبی اور دیگر سہولیات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر سندر انڈسٹریل اسٹیٹ عرفان قادر اور دیگر عہدیداران نے موبائل ہیلتھ سروسز کے ذریعے طبی سہولیات کی فراہمی کے اقدام کو سراہا اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر لیبر محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا کہ محنت کشوں اور ان کے اہلخانہ کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف نے ہمیشہ محنت کشوں کو اپنے دل کے قریب رکھا، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں محنت کشوں کے لیے تاریخی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل سکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام سے محنت کشوں کو طبی خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جا رہی ہے۔
کمشنر سوشل سکیورٹی ذوالفقار علی کھرل نے کہا کہ موبائل ہیلتھ سروسز کے ذریعے علاج معالجہ محنت کشوں کی دہلیز پر پہنچا دیا گیا ہے اور ان کی فلاح کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مانگا سوشل سکیورٹی ہسپتال میں پیرا میڈیکل اسکول آف نرسنگ کے قیام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کی استعداد کار میں اضافے اور طبی سہولیات کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔









