لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں سکول طالبہ کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں لڑکی نے اغوا کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے بیان دیا کہ اس نے ملزم محمد اعظم سے نکاح کیا تھا۔ عدالت نے پولیس کی تفتیشی رپورٹ اور لڑکی کے بیان کی روشنی میں ملزم کی عبوری ضمانت دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض کنفرم کردی۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی نے ضمانت کی منظوری کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ مقدمے کے مدعی نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزم نے اس کی بیٹی کو سکول سے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا، تاہم عدالت کے مطابق پولیس کی تفتیشی رپورٹ اغوا کے الزام کی تائید نہیں کرتی۔
تحریری فیصلے کے مطابق مدعی نے بتایا کہ اس کی بیٹی کا نکاح پندرہ سال کی عمر میں ہوا تھا، جبکہ میڈیکل بورڈ نے لڑکی کی عمر ساڑھے چودہ سے پندرہ سال قرار دی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ پولیس رپورٹ اور لڑکی کے بیان کی روشنی میں اغوا کی دفعہ بادی النظر میں لاگو نہیں ہوتی، تاہم کم عمری میں نکاح کے معاملے پر مزید انکوائری درکار ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر نکاح کے وقت لڑکی کی عمر چودہ یا پندرہ سال تھی تو یہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا معاملہ بنتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کے کردار کا حتمی تعین شواہد اور ثبوتوں کی روشنی میں ٹرائل کورٹ کرے گی۔









