لاہور(پنجاب پوسٹ) گوگل کے ماہرین اور پاکستان کی ڈویلپر کمیونٹی نے لمز میں منعقدہ ’پہلا قدم: ایپ ایڈیشن بوٹ کیمپ 2026‘ میں ایپلی کیشنز کی تیاری، مارکیٹنگ، آمدن کے ذرائع اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا۔ لمز کے سینٹر فار انٹرپرینیورشپ میں منعقدہ اس پروگرام کی میزبانی گوگل ڈویلپرز گروپ لاہور نے کی، جس کا مقصد طلبہ اور نوجوان ڈویلپرز کو ایپ معیشت میں موجود مواقع سے آگاہ کرنا تھا۔

لمز کے پرووسٹ ڈاکٹر طارق جدون نے گوگل کی ٹیم کا خیرمقدم کیا اور کراچی میں گوگل پاکستان کے پہلے دفتر کے افتتاح پر مبارک باد دی۔ گوگل کے سابق کنٹری کنسلٹنٹ اور لمز کے فیکلٹی ممبر بدر خوشنود نے اس تقریب کے انعقاد میں معاونت کی۔ گوگل کے وفد کی قیادت ایمری دوگان، فرحان قریشی اور فصیح مہتا نے کی، جبکہ دیگر ماہرین نے بھی مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا۔
تقریب کے دوران عالمی ایپ مارکیٹ کے حجم اور اس میں موجود کاروباری مواقع کو نمایاں کیا گیا۔ سیشنز میں پیش کیے گئے سینسر ٹاور کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں ایپس کے اندر خریداری پر عالمی صارفین کے اخراجات 167 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.6 فیصد زیادہ تھے۔ اس دوران دنیا بھر میں تقریباً 149 ارب ایپس ڈاؤن لوڈ کی گئیں، جبکہ صارفین نے مجموعی طور پر اندازاً 5.3 ٹریلین گھنٹے ایپس کے استعمال میں گزارے۔

پاکستانی ڈویلپرز کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے گیم ڈسٹرکٹ کی گیم ’مائی سپر مارکیٹ سمیولیٹر‘ کی مثال دی گئی، جس کے 2025 کے دوران اب تک 6 کروڑ سے زائد ڈاؤن لوڈز ریکارڈ کیے گئے۔ مقررین کے مطابق، پاکستان کے دیگر گیم اسٹوڈیوز بھی اپنی مصنوعات کے ذریعے عالمی صارفین تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔
بوٹ کیمپ میں طلبہ کو بتایا گیا کہ کامیاب ایپ بنانے کے لیے صرف اچھا خیال کافی نہیں، بلکہ صارفین کی ضروریات کو سمجھنا، درست صارفین تک رسائی حاصل کرنا، آمدن کا مؤثر نظام قائم کرنا اور صارفین کو مسلسل ایپ استعمال کرنے کی ترغیب دینا بھی ضروری ہے۔ گوگل کے ماہرین نے ایپ مارکیٹنگ، اشتہارات سے آمدن، گوگل پلے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایپس کی تیاری کے حوالے سے عملی سیشنز بھی منعقد کیے۔ گوگل اینٹی گریویٹی پر ہونے والے سیشن میں بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے نئے ٹولز سافٹ ویئر بنانے اور اس کی جانچ کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کیا پنجاب جنوبی ایشیا کا اے آئی ہب بننے جا رہا ہے؟ گوگل کی بڑی پیش رفت
تقریب کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ پاکستان میں تیار کی جانے والی ایپ بھی عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کر سکتی ہے۔ مناسب مہارتوں، مؤثر کاروباری حکمت عملی اور صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی کے کسی منصوبے یا چھوٹے کاروبار سے شروع ہونے والا خیال دنیا بھر میں استعمال ہونے والی مصنوعات میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
گوگل کا وفد اپنے دورے کے دوران پاکستان میں مختلف حلقوں سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔ ان سرگرمیوں میں گوگل کی ایپ معیشت پر مرکوز اہم تقریب ’تھنک ایپس‘ اور پاکستان کا پہلا یوٹیوب فیسٹیول بھی شامل ہیں، جس کا مقصد ملک کی بڑھتی ہوئی کری ایٹر برادری اور ڈیجیٹل مواد کے شعبے کو اجاگر کرنا ہے۔













