لاہور ( پنجاب پوست ) پنجاب کو مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل تعلیم کے میدان میں خطے کا نمایاں مرکز بنانے کی کوششوں میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے اے آئی و خصوصی اقدامات علی ڈار سے گوگل فار ایجوکیشن کے اعلیٰ سطحی عالمی وفد نے ملاقات کی، جس میں صوبے میں ڈیجیٹل تعلیم، مصنوعی ذہانت اور مستقبل کے مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گوگل فار ایجوکیشن مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کے سربراہ مازن عبداللہ کی قیادت میں ہونے والی ملاقات میں گوگل، الائیڈ آسٹریلیا، ٹیک ویلی پاکستان اور این آر ٹی سی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں پنجاب میں گوگل کے تعلیمی ڈیجیٹلائزیشن پروگرامز کے نتائج، ان کے دائرہ کار میں توسیع اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : مریم نواز کی ایک لاکھ ای بائیکس، آخر کون سے طلبہ اس سکیم کے اہل ہوں گے؟
علی ڈار نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے تحت پنجاب کو تعلیم، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے گامزن کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا ہدف صرف جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا نہیں بلکہ نوجوانوں کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل اور اے آئی مہارتوں سے آراستہ کرنا بھی ہے تاکہ وہ مستقبل کی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ گوگل جیسے عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری پنجاب میں ایک مضبوط اور عالمی معیار کا اے آئی ایکو سسٹم تشکیل دینے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تعاون سے نہ صرف سرمایہ کاری اور اختراع کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
مشیر وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آفس آف اے آئی پنجاب عالمی شراکت داری کو مزید وسعت دے کر صوبے کو جنوبی ایشیا کا نمایاں اے آئی ہب بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ پنجاب مستقبل کی ڈیجیٹل دنیا میں قائدانہ کردار ادا کر سکے۔









