ریلوے پولیس لائنز لاہور میں مارکی کی آؤٹ سورسنگ پر قانونی اور سکیورٹی سوالات، تحقیقات اور وضاحت کا مطالبہ

لاہور(پنجاب پوسٹ) ریلوے پولیس لائنز میں مارکی کی آؤٹ سورسنگ کے معاملے پر قانونی تقاضوں اور سکیورٹی خدشات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مارکی کو جوائنٹ سروے اور این او سی کے بغیر آؤٹ سورس کیا گیا، جبکہ لینڈ رولز 2023 اور پیپرا رولز 2004 کی مبینہ خلاف ورزی کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔

سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس عمل میں مجاز اتھارٹی کی منظوری حاصل کی گئی، اور آئی جی ریلوے پولیس کی منظوری کے بغیر آؤٹ سورسنگ کی قانونی حیثیت کیا ہے۔پولیس لائنز کو حساس تنصیبات قرار دیا گیا ہے، اس کے باوجود وہاں تجارتی سرگرمیوں کی اجازت پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پولیس لائنز میں دفاتر، رہائشی کوارٹرز، بیرکس اور جامع مسجد موجود ہیں، جبکہ تقریباً 2 ہزار سے 2500 اہلکار اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وہاں رہائش پذیر ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ نجی تقریبات کے انعقاد سے غیر متعلقہ افراد کی آمدورفت بڑھے گی، جس سے پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی سکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی بنا پر حساس پولیس تنصیب میں تجارتی سرگرمیوں سے قبل سکیورٹی کلیئرنس کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آؤٹ سورسنگ سے پہلے متعلقہ سکیورٹی اداروں سے تھریٹ اسیسمنٹ کرائی گئی یا نہیں، اور متعلقہ کسٹوڈین سے تحریری این او سی حاصل کیا گیا یا نہیں۔

معاملے پر آواز اٹھانے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مارکی کی آؤٹ سورسنگ کا مکمل ریکارڈ جانچا جائے اور نیلامی، منظوری اور سکیورٹی کلیئرنس کی دستاویزات کی تصدیق کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ قانونی اور سکیورٹی تقاضوں کی جانچ مکمل ہونے تک آؤٹ سورسنگ کا عمل روکا جائے اور متعلقہ حکام سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی جائے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کو تجارتی مفادات پر مقدم رکھا جائے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے