لاہور (پنجاب پوسٹ)سانحہ کارساز کے شہداء کی یاد میں پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے زیر اہتمام ویلنشیا ٹاؤن میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی چودھری اسلم گل تھے، جبکہ اس کا اہتمام پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کی فنانس کمیٹی کے رکن اشرف خان نے کیا۔ تقریب میں نوید چودھری، عثمان ملک، آصف ناگرہ، عمر شریف بخاری، چودھری ریاض، فہیم ٹھاکر، ذوالفقار مغل، منشا بھٹی، عمر ایاز، ماہ عالم، ایم اشرف طاہر اور رمضان گل سمیت بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔
چودھری اسلم گل کا خطاب
مہمان خصوصی چودھری اسلم گل نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئین، جمہوریت، عدلیہ اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھٹو آج زندہ ہوتے تو پاکستان معاشی دلدل میں نہ پھنسا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ضیاء اور مشرف کا انجام آج ساری دنیا کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھٹو، بے نظیر بھٹو اور ان کے صاحبزادوں کو شہید کر کے ظلم کیا گیا۔ انہوں نے سانحہ کارساز اور لیاقت باغ کے شہداء کو سلام پیش کیا۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس چیلنج کو چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں پورا کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹس کے اجرا کا پرانا طریقہ تباہ، نیا نظام کیا ہے؟
نوید چودھری کا خطاب
نوید چودھری نے کہا کہ اشرف خان نے شہدائے کارساز کی تقریب منعقد کر کے جیالوں کی ترجمانی کی ہے۔ ان کے مطابق چودھری اسلم گل اور عثمان ملک جیسے لوگ پیپلز پارٹی کا اصل چہرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کارساز بم دھماکوں کے باوجود عوام کے ساتھ کھڑی رہیں۔
نوید چودھری نے کہا کہ جین زی کہانیوں پر نہیں بلکہ عملی کام پر یقین رکھتی ہے اور پیپلز پارٹی اپنی عملی سیاست کے ذریعے نوجوانوں کو ساتھ ملا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں عوامی رابطے تیز کر کے پارٹی کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا موازنہ محترمہ شہید سے کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو آج بھی کارکنوں کی آواز بن کر پارلیمنٹ میں گونجتے ہیں۔
عثمان ملک کا خطاب
عثمان ملک نے کہا کہ ہم سانحہ کارساز کے شہداء کو 18 برس بعد بھی نہیں بھولے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی "عوام کی حکومت، عوام کے لیے” کے نعرے پر جدوجہد کر رہی ہے اور نظام کو چلانے کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 18 برس قبل 180 جیالے شہید ہوئے تھے، جبکہ آج ہزاروں لوگ مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی کے ہاتھوں جان سے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی میں اتفاق اور اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
دعا اور شمعیں
تقریب کے اختتام پر میزبان اشرف خان نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ شرکاء نے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی اور شمعیں روشن کیں۔
یہ بھی پڑھیں:طلبہ یونینز بحال ہوں گی یا پابندی برقرار رہے گی؟ متحدہ طلبہ محاذ کا حکومت سے بڑا مطالبہ











