لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے پتھر پیسنے والی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی بیماری کے باعث ہلاکتوں پر معاوضے کی عدم ادائیگی اور حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے خلاف درخواستوں پر محکمہ لیبر سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے اب تک جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کو کی گئی ادائیگیوں کی تفصیلات پیش کرنے اور اکوپیشنل ہیلتھ اینڈ سیفٹی کونسل قائم نہ کرنے پر بھی جواب طلب کرلیا۔
جسٹس خالد اسحاق نے پبلک لائرز فرنٹ سمیت 12 درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ اسامہ خاور گھمن نے دلائل دیے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ پتھر پیسنے والی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو پھیپھڑوں کی لاعلاج بیماری لاحق ہورہی ہے، جس کے باعث اب تک 184 مزدور ہلاک ہوچکے ہیں۔
درخواست گزاروں کے مطابق پتھر پیسنے والی فیکٹریوں میں مزدوروں کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات موجود نہیں، جبکہ بیماری کے باعث ہلاک ہونے والے مزدوروں کو قانون کے مطابق معاوضہ بھی ادا نہیں کیا جارہا۔ مزدوروں کی ہلاکتوں پر معاوضے کی عدم ادائیگی کے خلاف 2014 میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں، تاہم مقدمے کے دوران چار درخواست گزار خالد ہنجرا، ریاض ہنجرا، محمد عبداللہ اور محمد الیاس وفات پا چکے ہیں۔
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے مزدوروں کی فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ بیماریوں سے تحفظ کے لیے 2019 میں اکوپیشنل ہیلتھ اینڈ سیفٹی کونسل کے قیام کا قانون بنایا، لیکن تقریباً سات سال گزرنے کے باوجود محکمہ لیبر کی جانب سے کونسل قائم نہیں کی گئی۔
درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ پھیپھڑوں کی لاعلاج بیماری کے باعث ہلاک ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کو قانون کے مطابق پانچ لاکھ روپے فی کس معاوضے کی ادائیگی کا حکم دیا جائے۔ عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ محکمہ لیبر کو مزدوروں کو موذی بیماری سے بچانے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے۔
لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ لیبر سے جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو کی گئی ادائیگیوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے اکوپیشنل ہیلتھ اینڈ سیفٹی کونسل قائم نہ کرنے پر بھی جواب طلب کرلیا۔













