بسنت منانے کیخلاف درخواست، عدالت نے درخواست گزار اور وکیل کی سرزنش کیوں کی؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں بسنت 2027 دس روز تک منانے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست گزار شہری شاہد اسلام اور ان کے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے درخواست گزار کو بسنت کا باقاعدہ نوٹیفکیشن چیلنج کرنے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست دائر کرنے کی کیا بنیاد ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری ویب سائٹ پر 2027 میں بسنت منانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ویب سائٹ پر موجود اطلاع کی بنیاد پر درخواست کیسے دائر کی جاسکتی ہے؟ ویب سائٹ قابلِ اعتماد نہیں تو آپ نے دستاویزات بھی اسی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار بسنت منانے سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن کو چیلنج کرسکتا ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار شاہد اسلام کی عدالت سے تکرار بھی ہوئی۔ عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیسے وکیل ہیں جو کہتے ہیں کہ درخواست گزار کو بھی سن لیا جائے؟ عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ کیوں نہ اس معاملے پر آپ کے خلاف کارروائی کی جائے، تاہم درخواست گزار کو بسنت کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے کا موقع دیا گیا۔

درخواست میں پنجاب حکومت، ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب پولیس کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر بسنت 2027 منانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، تاہم بسنت کے انعقاد کے لیے ایس او پیز نہیں بنائے گئے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ 2026 میں بسنت کے دوران درجنوں افراد ہلاک اور متعدد خونی ڈور پھرنے سے زخمی ہوئے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینِ پاکستان اور اسلام کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ بسنت 2027 منانے کا اعلان کالعدم قرار دیا جائے اور بسنت کا دورانیہ دس روز سے کم کرکے ایک روز کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ نوٹیفکیشن چیلنج کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے