لاہور (پنجاب پوسٹ) انجینئر خالد عثمان کا کہنا ہے کہ ٹولنٹن مارکیٹ کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کرتے ہیں۔چیمبر سے ایک کلومیٹر دور مارکیٹ پانچ دن سے بند ہے اور تاجر پریشان ہیں۔
مارکیٹ کھلوانا تو دور لی بات ہے صدر چیمبر بھرپور مذمتی بیان بھی جاری نہ کرسکے۔خالد عثمان کا سوال ہے کہ چیمبر کا کام تاجروں کی نمائندگی ہے یا حکومتی مشینری کی؟محض اظہارِ تشویش سے ذمہ داری پوری نہیں ہوتی، تاجر عملی مدد چاہتے ہیں۔دو دکانوں کے خلاف کارروائی کے بعد پوری مارکیٹ کس تحریری حکم پر بند کی گئی؟
یہ بھی پڑھیں:رحمان بابا ایکسپریس پٹری سے کیوں اتری؟ ابتدائی رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا؟
تاجر نمائندوں کے مطابق کروڑوں روپے کا اسٹاک ضائع ہوا ہے۔کاروبار بند ہونے کے باوجود کرایے، تنخواہیں اور دیگر اخراجات جاری ہیں۔لاہور چیمبر فوری دکان وار سروے کرکے تاجروں کے نقصان کا مستند تخمینہ سامنے لائے۔
تاجروں پر تشدد کی غیر جانب دار تحقیقات اور ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔مارکیٹ کی فوری بحالی اور متاثرہ تاجروں کو قانونی و عملی مدد فراہم کی جائے۔صدر پروگریس گروپ کے مطابق صدر چیمبر علی حسام اصغر تاجروں کے حقوق کے لیے واضح مؤقف اختیار کریں۔











