ساہیوال(پنجاب پوسٹ)صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے ساہیوال انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود، کمشنر ساہیوال ڈویژن ڈاکٹر آصف طفیل اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔
صوبائی وزیر صحت نے انسٹیٹیوٹ کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا، زیرِ علاج مریضوں سے ملاقات کی اور ان سے علاج معالجے کی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ مریضوں نے ساہیوال انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں علاج کی سہولیات کی فراہمی پر حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کیا۔
دورے کے دوران وزیر صحت کو انسٹیٹیوٹ کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ادارے میں اب تک دل کے 276 سے زائد پیچیدہ آپریشن کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن میں 261 بائی پاس آپریشنز کے ساتھ مائٹرل والو ریپلیسمنٹ اور دیگر پیچیدہ آپریشنز شامل ہیں۔
بریفنگ کے مطابق انسٹیٹیوٹ میں اب تک 2,660 انجیو گرافی اور 1,119 انجیو پلاسٹی کی جا چکی ہیں۔ ہارٹ اٹیک کے سینکڑوں مریضوں کی جانیں پرائمری پی سی آئی کے ذریعے بچائی گئیں۔
مزید بتایا گیا کہ انسٹیٹیوٹ کی او پی ڈی میں 68,976 اور ایمرجنسی میں 18,412 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ 11,568 ایکو ٹیسٹ کیے گئے اور 1,061 لائف سیونگ انجیکشن بھی فراہم کیے گئے۔ اس ادارے کی بدولت ساہیوال اور گردونواح کے عوام کو دل کے امراض کے علاج کی جدید سہولیات مقامی سطح پر میسر آ رہی ہیں۔
بعد ازاں خواجہ سلمان رفیق نے ساہیوال میں کینسر ٹریٹمنٹ سینٹر کے قیام کے لیے مجوزہ مقامات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال اور حاجی عبدالقیوم ہسپتال میں سینٹر کے قیام کے لیے موزوں جگہوں کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق ساہیوال میں جدید کینسر ہسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہسپتال کے قیام سے ساہیوال اور ملحقہ اضلاع کے مریضوں کو مقامی سطح پر علاج کی سہولیات میسر آ سکیں گی۔
سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود نے کہا کہ کینسر ہسپتال کے قیام سے مریضوں کو علاج کے لیے دوسرے بڑے شہروں کا سفر کرنے اور اضافی اخراجات برداشت کرنے سے نجات ملے گی۔











