لاہور(پنجاب پوسٹ) ٹریفک حکام نے خونی ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق رواں سال اب تک گزشتہ سال کے مقابلے میں لاہور میں حادثات میں 16 فیصد جبکہ پورے صوبے میں 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ ون وے کی خلاف ورزی، زگ زیگ ڈرائیونگ، اوور سپیڈنگ، اوورٹیکنگ، لائن اور لین کی خلاف ورزی اور موبائل فون کا استعمال سمیت سات مختلف خلاف ورزیاں مہلک حادثات کی بڑی وجہ ہیں۔ مجموعی طور پر ہونے والے 76 فیصد جان لیوا حادثات میں ڈرائیور کی غفلت شامل رہی، جبکہ تیز رفتاری، بے احتیاطی سے ڈرائیونگ اور غلط اوورٹیکنگ سے سب سے زیادہ حادثات رونما ہوئے۔
حکام کے مطابق تمام اضلاع میں حادثات کے ہاٹ سپاٹس کی رش آورز میں ویڈیوز بنا کر ان کا تجزیہ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پنجاب بھر میں اگلے ہفتے سے ٹیمیں ویڈیوز بنا کر ہیڈ آفس بھجوائیں گی۔اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں رجسٹرڈ گاڑیوں میں موٹر سائیکلوں کا حصہ 84 فیصد ہے، جبکہ سال 2026 کے پہلے نو ماہ میں 39 فیصد ٹریفک حادثات موٹر سائیکل سے متعلق تھے۔
ٹریفک حکام نے بتایا کہ جنوری 2026 سے اب تک ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ڈیڑھ کروڑ سے زائد چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک حادثات میں کمی اور ٹریفک کی روانی مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔











