پنجاب کی عدالتی تاریخ بدل گئی، 17 اضلاع میں پاکستان آرمز آرڈیننس کے تحت 2023 تک کے تمام زیرِ التواء مقدمات کے فیصلے کر دیے گئے

لاہور (پنجاب پوسٹ) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی خصوصی ہدایات پر پنجاب کی ضلعی عدالتوں نے اہم عدالتی سنگِ میل عبور کر لیا۔ پنجاب بھر میں پاکستان آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت 2023 تک کے زیرِ التواء مقدمات میں سے 86 فیصد سے زائد کے فیصلے کر دیے گئے۔

گزشتہ 6 ماہ کے دوران پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں پاکستان آرمز آرڈیننس کے تحت 2 ہزار 934 مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ 2023 تک صوبے بھر میں ایسے 3 ہزار 397 مقدمات زیرِ التواء تھے۔

پنجاب کے 17 اضلاع میں پاکستان آرمز آرڈیننس کے تحت 2023 تک کے تمام زیرِ التواء مقدمات کے فیصلے کر دیے گئے ہیں، جبکہ صوبے کے باقی اضلاع میں اب صرف 463 مقدمات زیرِ التواء ہیں۔

زیرِ التواء مقدمات میں سے بڑی تعداد قتل کے زیرِ سماعت ٹرائلز کے ساتھ منسلک ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے باقی ماندہ آرمز آرڈیننس مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے ضلعی عدالتوں کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ہدایت کی ہے کہ زیرِ التواء قتل کے مقدمات کے ٹرائلز جلد مکمل کیے جائیں تاکہ پاکستان آرمز آرڈیننس کے تحت باقی ماندہ مقدمات کے فیصلوں میں مزید تیزی لائی جا سکے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے