لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی جانب سے سرکاری فنڈز پر ذاتی تشہیر کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران متفرق درخواست میں غیر متعلقہ دستاویزات منسلک کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک پیرے کی متفرق درخواست کو کاغذات کا پلندہ بنا دیا گیا، پوری درخواست پڑھنے کے بعد آخری پیرے میں کام کی دو باتیں نظر آئیں۔ عدالت نے خبردار کیا کہ آئندہ اس طرح عدالتی وقت ضائع کیا گیا تو 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
جسٹس فاروق حیدر نے عالیہ حمزہ کی درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کی جونیئر وکیل آمنہ ایڈووکیٹ نے معافی کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ سینئر وکیل اظہر صدیق آ رہے ہیں، کیس کو انتظار میں رکھ لیا جائے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا ہم سارا دن اسی انتظار میں رہیں کہ آپ کے سر کب آئیں گے؟ عدالت نے مزید کہا کہ عدالتی وقت ضائع کرنے پر کیوں نہ 10 لاکھ روپے جرمانہ کر دیا جائے۔
درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ نئے قانون کا مسودہ ریکارڈ کے طور پر جواب کے ساتھ جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔ سینئر وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد حالات بہت مختلف ہو چکے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری اشتہارات پر خرچ ہونے والی رقم ٹیکس دہندگان کی ہے اور وزیراعظم و وزیراعلیٰ کی تصاویر کے ساتھ اشتہارات جاری کرنا ذاتی تشہیر کے زمرے میں آتا ہے۔ استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ذاتی تشہیر غیر قانونی ہے۔
عدالت نے درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔











