لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہواؤں کے رخ میں تبدیلی بھارتی شہروں کی آلودہ ہوا کو پاکستان کی طرف لانے کا سبب بن رہی ہے، انڈونیشیا کے جنگلات میں لگی آگ اس کی تازہ مثال ہے جس نے سنگاپور کے فضائی معیار کو بھی خراب کیا۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ سنگاپور میں ماحولیاتی بہتری کے اعلیٰ ترین انتظامات کے باوجود سرحد پار سے آنے والی آلودگی سے متاثر ہو رہا ہے۔ ہواؤں کے ساتھ پھیلنے والا دھواں پورے خطے میں فضا کو آلودہ بناتا ہے، اس لیے سموگ سے بچاؤ کے لیے ریجنل اور گلوبل اپروچ ناگزیر ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ کاروں، بسوں، ٹرکوں اور موٹر سائیکلوں سے خارج ہونے والا ٹریفک کا دھواں فضائی آلودگی کا سبب بنتا ہے، جبکہ بجلی کی پیداوار، ریفائنریوں، جہاز رانی اور مینوفیکچرنگ سے صنعتی اخراج بھی فضائی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور:دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی شاہراہوں پر آنے پر پابندی
انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کاموں اور سڑکوں کی دھول فضا میں معلق ذرّاتی مادوں کی مقدار بڑھا سکتی ہے۔ خشک موسم میں مصنوعی بارش یا پانی کے چھڑکاؤ کے ذریعے مٹی اور دھول کے ذرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت فضائی معیار کو بہتر بنانے کے جامع اور مؤثر اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ سموگ سیزن سے پہلے اور اس کے دوران جدید مشینری، جدید آلات، جدید ادارہ جاتی نظام اور مؤثر انتظامات پر سختی سے عمل جاری رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ فضائی معیار کی بہتری انسانی زندگی کا مسئلہ ہے، کسی قسم کی کوتاہی، غفلت یا قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں ہوگی۔ گزشتہ سال کی طرح سموگ سے بچاؤ اور کمی کے طریقوں اور ضابطوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
مریم اورنگزیب کے مطابق فصلوں کی باقیات نہیں جلائی جا رہیں اور پہلی بار زرعی مشینری کے ذریعے فصلوں کی باقیات کی گانٹھیں بنائی جا رہی ہیں، جبکہ 10 ہزار سپر سیڈرز فیلڈ میں کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جدید ترین ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کے ذریعے صنعتوں سے دھوئیں کے اخراج کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ مقامی سطح پر آلودگی اور مٹی کے ذرات کی فضا میں موجودگی پر قابو پانے کے اقدامات کے باوجود ہواؤں کے رخ میں تبدیلی ماحول پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود سرد موسم اور درجہ حرارت میں تبدیلیاں فضائی معیار پر اثرانداز ہوتی رہیں گی۔












