پنجاب یونیورسٹی میں 5 ارب 66 کروڑ روپے کے استعمال پر سوالات، وائس چانسلر کے خلاف فرانزک آڈٹ کا مطالبہ


لاہور (پنجاب پوسٹ)پنجاب یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال، صدر چوہدری بشارت محمود، کنوینئر پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد، سیکرٹری جنرل طیب اعجاز خان اور دیگر عہدیداران نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی گزشتہ تین ماہ سے وائس چانسلر اور انتظامیہ کی جانب سے مبینہ بے ضابطگیوں، اختیارات سے تجاوز اور اساتذہ و ملازمین کے جائز حقوق کی عدم ادائیگی کے خلاف پرامن احتجاج کر رہی ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ ڈاکٹر محمد علی شاہ صاحب نے ستمبر 2024 میں بطور وائس چانسلر چارج سنبھالا۔ گزشتہ دو سالوں میں یونیورسٹی تباہی کے دھانے پر پہنچ گئی جس کے ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد یہ ہیں

گزشتہ تقریباً 14 ماہ کے دوران بجٹ سے ما ورا سیونگز اوربچتوں میں سے 4.88 ارب روپے نکلوا کر خرچ کر لیے گئے ہیں ۔ اس اہم مالی اقدام پر یونیورسٹی کی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی (FPC) کواعتماد میں نہیں لیا گیا۔
تقریباً 78.6 کروڑ روپے مختلف شعبہ جاتی اکاؤنٹس سے یونیورسٹی کے مرکزی اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔ ان منتقلیوں کی مکمل تفصیل اورریکارڈ واضح نہیں۔ چنانچہ تقریباً 5.66 ارب روپےکی رقم کے استعمال کی تفصیلی وضاحت میسر نہیں۔
یونیورسٹی کی ایک دستاویز میں تقریباً 1.6 ارب روپے کا بجٹ خسارہ ظاہر کیا گیا، جبکہ یکم جولائی 2026 کو فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے سامنےخسارہ تقریباً 2.57 ارب روپے بتایا گیا۔ اس نمایاں فرق کی باقاعدہ وضاحت موجود نہیں۔
بعد کی دستاویزات میں تقریباً 2.3 ارب روپے دوبارہ سرمایہ کاری کا ذکر ہے۔ اس صورت میں باقی تقریباً 1.7 ارب روپے کی مکمل تفصیل نا پید ہے۔
پنجاب اسمبلی کو فراہم کردہ جواب میں تقریباً 22کروڑ روپے کے انڈومنٹ (Endowment) فنڈز کاذکر بھی مالی صورتحال کی پیچیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔
جامعہ کی تاریخ میں سیلف سپورٹ پروگرامز پہلی مرتبہ تقریباً 35 کروڑ روپے کے خسارے میں چلے گئے ہیں۔
مالی بحران کے باوجود فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کاتقریباً ایک سال میں صرف ایک اجلاس ہوسکا۔ یہ مؤثر مالی نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات پیداکرتا ہے۔

گزشتہ تقریباً دو سالوں میں سینیٹ (Senate) کاصرف ایک اجلاس منعقد ہوا۔سنڈیکیٹ(Syndicate )، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور دیگراہم قانونی و علمی فورمز کے اجلاسوں میں طویل اور غیر معمولی وقفے دیکھنے میں آئے۔
ڈینز کمیٹی اور سربراہانِ شعبہ جات (HODs) فورم بھی باقاعدہ مشاورتی اداروں کے طور پر مؤثر انداز میں فعال نہیں رہے۔
سلیکشن بورڈز میں طویل تاخیر کے باعث خصوصاً جونیئر درجات کے اساتذہ و ملازمین کی ترقیوں اور تقرریوں پر منفی اثر پڑا۔ چند سلیکشن بورڈز کے ذریعے منظور نظر افراد کو غیر شفاف طریقے سے تعینات کیا گیا۔
اہم انتظامی و علمی مناصب کے طویل عرصے تک خالی رہنے سے فیصلہ سازی میں کمی اور اختیارات کے ارتکاز کا تاثر پیدا ہوا ۔
ڈائریکٹر جنرل طلبہ امور، املاک و سکیورٹی (DG SES) کا غیر قانونی عہدہ تخلیق کیا گیا جس کو متعدد انتہائی اہم انتظامی اختیارات سونپ دیے گئے۔ یہ متنازعہ عہدہ غیر معمولی انتظامی مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔

ایک جانب اربوں روپے کی سرمایہ کاری ھڑپ کرلی گئی، جبکہ دوسری جانب اساتذہ و ملازمین کےمتعدد جائز مالی و انتظامی مطالبات تاحال زیرِالتوا ہیں، جن میں سابقہ مالی واجبات، لیو انکیشمنٹ، پرفارمنس ایوارڈز، ہاؤس ریکوزیشن،اہلیت و سینیارٹی پر ترقیاں، ٹائم اسکیل ترقیاں، تبدیل شدہ نئے ٹی اے/ڈی اے رولز شامل ہیں۔
مالی وسائل کے باوجود بنیادی ترقیاتی ورہائشی منصوبے، سڑکوں کی تعمیر اور بجلی کےنظام میں مطلوبہ بہتری مفقود ہے۔ دوسری جانب رہائش گاہ وائس چانسلر، وائس چانسلر کے زیر استعمال گاڑیوں، فرنیچر اور دیگر بڑی سہولیات پر ہونے والے اخراجات میں بے پناہ ، سرا سر غیر قانونی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کروڑوں روپے سے وائس چانسلر آفس اور وائس چانسلر ہاؤس کی تزیین وآرائش کی گئی۔

اختلافِ رائے رکھنے والے اساتذہ و ملازمین کےخلاف انکوائریوں اور ظالمانہ کارروائیوں کے بڑھتےہوئے رجحان سے ادارے میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوچکی ہے۔بعض معاملات میں تو شکایت کنندگان ہی کوکارروائی کا سامنا کرنا پڑا، انتظامیہ کی جانب سے متعلقہ انتظامی افسران کے احتساب کی بجائے انہیں جانب دار کمیٹیوں کے ذریعے بری اور معصوم قرار دیے جانے پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔

یونیورسٹی میں آزادیٔ اظہار، آزادیٔ رائے، آزادیٔ اجتماع اور بامعنی ادارہ جاتی مکالمے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، سیاسی بنیادوں پر اساتذہ و ملازمین کے تبادلے کیے جا رہے ہیں اور احتجاج کرنے والے نمائندگان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال، چوہدری بشارت محمود، پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد، طیب اعجاز خان، پروفیسر ڈاکٹر مقیت جاوید بھٹی، ڈاکٹر ماجد علی، محمد تنویر اعوان اور حماد بٹ کے خلاف مورخہ 8 ستمبر 2026 کو اساتذہ اور ملازمین کے مسائل اجاگر کرنے اور انتظامیہ سے جواب طلبی کرنے کی پاداش میں تھانہ مسلم ٹاؤن میں ایف آئی آر درج کرادی گئی۔

انتظامیہ کی جانب سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کی پرسنل فائلیں کھلوائی جا رہی ہیں اور مبینہ طور پر ان ریکارڈز میں ردوبدل یا غیر ضروری مداخلت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بعض مبینہ سہولت کاروں کے ذریعے عہدیداران کے خلاف غیر مصدقہ اور بے بنیاد درخواستیں دائر کروا کر انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،

جبکہ بعض رہنماؤں کو ان کی رہائش گاہوں سے بے دخل کرنے کے لیے بھی مبینہ طور پر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹو اینڈ ٹیکنیکل سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری بشارت محمود کے دفتر پر مبینہ حملے اور یونیورسٹی سے واپسی کے دوران نہر پل پر ان پر حملے کی کوشش بھی کی گئی۔

امسال یونیورسٹی کی عالمی درجہ بندی 542 سے 588 تک گر چکی ہے۔ یہ زوال پذیری ادارے کیمجموعی علمی کارکردگی کے حوالے سے سنجیدہ تشویش پیدا کرتی ہے۔
اہم ڈینز، پرنسپلز، ڈائریکٹرز جنرل اور دیگرانتظامی و علمی عہدوں کے طویل عرصے تک خالی رہنے سے علمی نظم و نسق اور فیصلہ سازی متاثر ہورہی ہے۔
تحقیقی ماحول، بیرونی تحقیقی فنڈنگ اور اساتذہ کی زیرِ قیادت علمی اقدامات کے حوالے سے بھی شکایات کا ایک انبار ہے۔
مرکزی اکاؤنٹ پالیسی (One-Account Policy) کے نتیجے میں شعبہ جات اور سربراہانِ شعبہ جات کی مالی خودمختاری اور ادارہ جاتی ملکیت کم ہونے سے متعدد علمی و تدریسی پروگراموں کےمستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ:

1۔ بیرونی ادارے سے غیر جانب دار فرانزک آڈٹ
فوری طور پرکسی معتبر بیرونی ماہر ادارے سے مالی معاملات کا جامع اور غیر جانب دار فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔ صدرِ مملکت کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی فوری اجلاس طلب کرے، پنجاب یونیورسٹی کے معاملات کا جامع اور شفاف جائزہ لے اور مبینہ بے ضابطگیوں، اختیارات سے تجاوز اور انتظامی معاملات میں مداخلت سے متعلق تمام شواہد کا جائزہ لے۔ فرانزک آڈٹ کے شفاف، غیر جانبدار اور معتبر ہونے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ آڈٹ کے دوران وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کو کام سے روک دیا جائے یا رخصت پر بھیج دیا جائے تاکہ یونیورسٹی انتظامیہ آڈٹ پر اثر انداز نہ ہوسکے۔

اسی طرح عزت مآب گورنر /چانسلر پنجاب یونیورسٹی، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام بھی پنجاب یونیورسٹی کے انتظامی معاملات کی غیر جانب دارانہ انکوائری کروائیں، تمام متعلقہ فائلیں اور ریکارڈ محفوظ کیے جائیں اور اگر کسی بھی افسر یا عہدیدار کے خلاف الزامات تحقیقات میں ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

2۔ بچت اکاؤنٹس اور مالی مطابقت کا فرانزک جائزہ
بچت اکاؤنٹس سے 4.88 ارب روپے کے غیر قانونی اخراجات، 78.6 کروڑ روپے کی شعبہ جات سےمنتقلی، 2.57 ارب اور 1.6 ارب روپے کے مختلف خساروں، 2.3 ارب روپے کی دوبارہ سرمایہ کاری اورباقی تقریباً 1.7 ارب روپے کی مکمل مالی مطابقت اورمصرف کا فرانزک جائزہ لیا جائے۔

3۔ مرکزی اکاؤنٹ پالیسی کا جائزہ
مرکزی اکاؤنٹ پالیسی اور اس کے تحت ہونے والی تمام مالی منتقلیوں کی قانونی حیثیت، منظوری اوراختیار کا جائزہ لیا جائے۔

4۔ وائس چانسلر ہاؤس اور دیگر اخراجات کا آڈٹ
وائس چانسلر ہاؤس، گاڑیوں، فرنیچر اور دیگر بڑےاخراجات کا آزادانہ اور شفاف آڈٹ کرایا جائے۔
5۔ سینیٹ، سنڈیکیٹ اور FPC کے باقاعدہ اجلاس
سینٹ، سنڈیکیٹ، فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اوردیگر قانونی و علمی فورمز کے باقاعدہ اجلاس یقینی بنائے جائیں۔
6۔ ملازمین کے مالی و ترقیاتی حقوق کی ادائیگی
اساتذہ و ملازمین کے جائز مالی، ترقیاتی اورترقیوں سے متعلق حقوق پر فوری پیش رفت کی جائے۔
ملازمین کے عیدین کے اعزازیہ (Honorarium) اور اوور ٹائم کی فوری ادائیگی کی جائے۔ اس کے علاوہ Leave Encashment، House Requisition میں 84 فیصد اضافے، 15 فیصد Disparity Reduction Allowance کی ادائیگی، سینئر KPOs کی ترقی کے احکامات اور منظور شدہ Technical Structure کا فوری نفاذ کیا جائے۔

روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو مستقل (Regular) کیا جائے اور ایسے تعلیم یافتہ ملازمین جو طویل عرصے سے پنجاب یونیورسٹی میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس وقت ڈی کلاس میں کام کر رہے ہیں، ان کی تعلیمی قابلیت اور سروس کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں جونیئر کلرک کی آسامیوں پر تعینات/ترقی دی جائے۔

انتظامی دباؤ، انتقامی کارروائیوں کو بند کیا جائے اور اختلافِ رائے کی حوصلہ شکنی کے رجحان کاخاتمہ کیا جائے۔

یونیورسٹی میں شفاف، مشاورتی، شمولیتی اور قانون و ضوابط کے مطابق طرزِ نظم ونسق بحال کیاجائے۔

اساتذہ وملازمین کے مسائل میں اضافے کا باعث بننے اور مشکلات پیدا کرنے والے انتظامی افسران کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کے بجائے اساتذہ اور ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم کرے۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ اساتذہ اور ملازمین اپنے آئینی و قانونی حقوق کے حصول کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی بھی دباؤ، دھمکی یا انتقامی کارروائی کے باعث اپنے جائز مطالبات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے