لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب یونیورسٹی میں اساتذہ اور ملازمین کا اپنے جائز و بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جاری احتجاج آج 35ویں روز میں داخل ہوگیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام اساتذہ اور ملازمین نے آج بھی بھرپور احتجاجی ریلی نکالی، جس میں بڑی تعداد میں یونیورسٹی اساتذہ، افسران اور ملازمین نے شرکت کی۔
احتجاجی ریلی کے شرکاء نے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور یونیورسٹی انتظامیہ کے بعض عہدیداران کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین طویل عرصے سے اپنے جائز اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے احتجاج پر مجبور ہیں، تاہم انتظامیہ کی جانب سے ان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اصغر اقبال، ملازمین کے صدر بشارت چوہدری اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ اور ملازمین اپنے حقوق کے حصول کے لیے متحد ہیں اور کسی صورت اپنے جائز مطالبات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
مقررین نے واضح کیا کہ جب تک وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بنیادی مطالبات تسلیم نہیں کرتی، احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور ضرورت پڑنے پر اسے مزید وسیع اور مؤثر بنایا جائے گا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی ایک تاریخی اور قومی تعلیمی ادارہ ہے، اس کے تعلیمی، انتظامی اور ملازمتی معاملات کو باہمی مشاورت، شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر چلایا جانا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ اور ملازمین کے جائز مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور موجودہ صورتحال کے خاتمے کے لیے بامعنی مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی، جبکہ مطالبات پر مثبت پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔











