لاہور(پنجاب پوسٹ) پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، جبکہ صوبے کے وزیراعلیٰ کنٹینر پر چڑھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا کی قسمت میں صرف دھرنے، جلسے، ریلیاں اور لانگ مارچ ہی آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صوبے میں امن و امان اور روزگار نہیں ہوگا تو وہاں کے لوگ امن اور روزگار کی تلاش میں دوسرے صوبوں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو حکومت اپنے ہی لوگوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، اسے حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:15سال کی جدائی ختم ، 2011 میں خاندان سے بچھڑی عابدہ "میرا پیارا” ٹیم نے کیسے تلاش کی ؟
عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ واحد وزیراعلیٰ ہیں جو اپنے ہی صوبے میں لاؤ لشکر کے ساتھ مارچ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق فیڈریشن کے خلاف ہرزہ سرائی کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری وسائل کو جتھوں کی سیاست کے لیے استعمال کرنا پی ٹی آئی کا پرانا وتیرہ ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے الزام لگایا کہ سہیل آفریدی نے صوبے میں قیام امن کے بجائے دہشتگردوں کو تحفظ دینے کو ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشتگردوں، منشیات فروشوں اور سمگلروں کے رحم و کرم پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت خود صوبے میں آئینی اقدام اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے۔ آخر میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ صوبے کے عوام کو کسی صورت دہشتگردوں اور جتھوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔











