لاہور(پنجاب پوسٹ)میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی آذربائیجان کی غیر ملکی لڑکی نے اپنے ملک واپس جانے سے انکار کر دیا ہے۔ متاثرہ لڑکی کا موقف ہے کہ وہ پاکستان میں رہ کر اپنے کیس کی پیروی کرنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہو چکی ہے، جبکہ خاتون سمیت تین ملزمان گرفتار ہیں۔ متاثرہ لڑکی کی واپسی کے معاملات سے متعلق ایمبیسی دیکھے گی۔
پولیس کے مطابق لڑکی کو گزشتہ رات ایئرپورٹ پہنچایا گیا، جہاں اس کی بورڈنگ مکمل ہوئی اور وہ جہاز میں سوار بھی ہو گئی۔ تاہم اچانک اس نے واپس نہ جانے کا شور مچا دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں نے لڑکی کو جہاز سے اتار لیا۔ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اسے زبردستی واپس بھیجنا چاہتی ہے، لیکن وہ پاکستان میں رک کر انصاف کے حصول کے لیے کیس لڑنا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غیر ملکی خاتون معاملہ، ملزم محسن اور مسکان نے عدالت میں کیا بتایا ؟
دوسری جانب پولیس نے کیس کی تفتیش کو حتمی مراحل میں قرار دیا ہے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے بتایا کہ دو مرکزی ملزمان اور خواتین ملزمہ گرفتار ہیں، جبکہ میڈیکل رپورٹ میں بھی زیادتی ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق تیسرے ملزم کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ تفتیش شوہر کی بنیاد پر کی جا رہی ہے اور ڈی این اے رپورٹ کا انتظار ہے، جس کے بعد تمام صورتحال واضح ہو جائے گی۔











